ملکی توانائی ضروریات پورا کرنے کیلئے وژن 2030 کے تحت ایٹمی توانائی سے8800 س میگاواٹ ، 2050تک42 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے،ڈاکٹرانصر پرویز ،ان منصوبوں کیلئے صرف آٹھ سے دس سال رقم کی ضرورت ہوگی باقی کے عرصہ میں اپنے وسائل سے لاگت پوری کریں گے ،11 سو میگاواٹ کے ایک نیو کلیئر پاور پلانٹ سے سالانہ ایک ارب ڈالرز فرنس آئل کی درآمد کی مد میں بچت ہوگی، کراچی میں زیرتعمیرکے ٹوایٹمی توانائی پلانٹ کوحملے سے محفوظ رکھنے کیلئے میزائل شیلڈ لگائی جائے گی ، ایٹمی فضلے کوٹھکانے لگانے کا موثرنظام موجود ہے، چیئرمین پی اے ای سی کی چشمہ میں میڈیا کو بریفنگ

جمعرات جنوری 04:37

چشمہ( اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔2جنوری۔2014ء )پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (پی اے ای سی )کے چیئرمین ڈاکٹرانصر پرویز نے کہا ہے کہ ملکی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کیلئے وژن 2030 کے تحت ایٹمی توانائی 8800سو میگاواٹ جبکہ 2050تک بیالیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے،ان منصوبوں کیلئے صرف آٹھ سے دس سال رقم کی ضرورت ہوگی باقی کے عرصہ میں اپنے وسائل سے لاگت پوری کریں گے ،گیارہ سو میگاواٹ کے ایک نیو کلیئر پاور پلانٹ سے سالانہ ایک ارب ڈالرز فرنس آئل کی درآمد کی مد میں بچت ہوگی، کراچی میں زیرتعمیرکے ٹوایٹمی توانائی پلانٹ کوحملے سے محفوظ رکھنے کیلئے میزائل شیلڈ لگائی جائے گی ، ایٹمی فضلے کوٹھکانے لگانے کا موثرنظام موجود ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز چشمہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ 2030تک ایٹمی توانائی سے مجموعی طور پر آٹھ ہزار آٹھ سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے جس میں گیارہ سو میگاواٹ کے سات نئے پاور پلانٹ لگانے کا منصوبہ ہے جن میں سے کراچی میں لگاے جانے والے دو پاور پلانٹس بھی شامل ہیں،پلانٹس لگانے کیلئے سائٹس منتخب کرنے کا کام جلد شروع کیا جارہا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ 340میگاواٹ کے سی تھری اور 340میگاواٹ کے ہی سی فور ایٹمی بجلی گھر پر 170ارب روپے سے زائد کی لاگت آئیگی جن کو 2016تک مکمل کرلیا جائے گا ،ان دوپلانٹس سے دس روپے فی یونٹ سے کم لاگت بجلی حاصل ہوگی اس وقت ایٹمی توانائی کا ٹیرف سات روپے فی یونٹ سے کم ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سی تھری اورسی فور کی لاگت میں سے حکومت کو صرف 30سے 35فیصد ادا کرنا پڑیں گے باقی ماندہ رقم قرضے سے حاصل ہوگی ۔

انہوں نے بتایا کہ سستی ایٹمی بجلی سے گردشی قرض کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پلانٹس کی مشنری کو حاصل کرنے میں مشکلات ہیں ،تاہم اب یہ صلاحیت حاصل کرلی گئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کینڈا کی طرف سے کراچی ایٹمی توانائی کیلئے سامان کی فراہمی روکنے سے ملک کو ایٹمی توانائی پیدا کرنے میں تجربہ اور صلاحیت حاصل ہوئی ۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ایٹمی توانائی حاصل کرنے کا رحجان ہے اور پاکستان کو بھی توانائی کی ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایٹمی توانائی حاصل کرنا ہوگی ۔ان کا کہنا تھا کہ گیارہ سو میگاواٹ کے دو پلانٹس لگنے سے ایک سو ارب مکعب فٹ یومیہ گیس کی بچت ہوگی اوردو ارب ڈالرز سالانہ بچت ہوگی انصر پرویز نے بتایا کہ حکومت کو ابتدائی طور پر ایٹمی توانائی پلانتس کیلئے سرمایہ فراہم کرنا پڑیگا ،تاہم بعد میں ان سے حاصل ہونے والے ریونیو سے مزید پلانٹس لگائے جائیں گے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چشمہ میں لگنے والے پلانٹس سے آئندہ ساٹھ سالوں تک بجلی حاصل ہوگی ،ایٹمی توانائی کے سلسلے میں چین سے تعاون جاری رہیگا کیوں کہ پلانٹس کی عمر کافی زیادہ ہوتی ہے اور اس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلق رہتا ہے ۔اگر کسی اور ملک کیساتھ مل کر کام کریں تو خدشہ رہتا ہے کہ وہ درمیان نہ چھو ڑ جائے ۔پلانٹس کی حفاظتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے ،کراچی میں لگائے جانے والے کے ٹو پر میزائل حملے کا بھی کور دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ایٹمی توانائی والا ملک ہے جو آئندہ بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریگا۔ انھوں نے بتایا کہ کے ای ایس سی نے پی اے ای سی کوچارارب سترہ کروڑ روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔

Your Thoughts and Comments