پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن )عدلیہ کا احترام اور ان کے ہر فیصلے پر عمل کرتے ہیں،ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 30 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں، رانا ثناء اللہ ،پرویز مشرف کو کرمنل معاملات میں استثنیٰ حاصل نہیں، انہوں نے آئین توڑا ہے ان کو سزا ملنا جمہوریت اور آئین کیلئے ضروری ہے،، عمران خان اور طاہر القادری کا مستقبل 2018ء تک زیرو ہے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے اس طرح کی حرکات کرتے رہیں گے،صوبائی وزیر قانون وبلدیات کی گفتگو

جمعرات جنوری 04:41

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔2جنوری۔2014ء)صوبائی وزیر قانون وبلدیات رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ ن عدلیہ کا احترام اور ان کے ہر فیصلے پر عمل کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جاری کردہ 30 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کے بعد سکروٹنی کا عمل جاری ہے، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 30 جنوری کو بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں، نئی مردم شماری، حلقہ بندیوں اور اس حوالے سے قانون سازی کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے، سابق صدر مشرف کو کرمنل معاملات میں استثنیٰ حاصل نہیں، انہوں نے آئین توڑا ہے ان کو سزا ملنا جمہوریت اور آئین کے لئے ضروری ہے، عمران خان اور طاہر القادری کا مستقبل 2018ء تک زیرو ہے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے اس طرح کی حرکات کرتے رہیں گے، کل کے مجاہدین آج کے طالبان ہیں ان سے مذاکرات کے لئے کوئی بھی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی قومی ذمہ داری اور فریضہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 2013ء کا سال بڑا اہم تھا جس میں ایک اسمبلی نے اپنی آئینی مدت پوری کی جبکہ دوسری الیکشن کے ذریعے معرض وجود میں آئی، نیا آنے والا سال پاکستان جمہوریت اور قوم کے لئے نیک شگون ثابت ہو،بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہائی کورٹ کے فیصلے پر کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اور پاکستان مسلم لیگ ن نے ہمیشہ عدلیہ اور ان کے فیصلوں کا احترام کیا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آزاد عدلیہ کے آزاد فیصلے جمہوریت اور آئین کو مستحکم کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بلدیاتی شیڈول جو کہ 30جنوری کا جاری کیا گیا تھا اس کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں اور سکروٹنی کا عمل جاری ہے، اب اگر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کئے جانے والی نئی حلقہ بندیاں اور دیگر عوامل کالعدم ہو چکے ہیں جس کے بعد 30جنوری کو الیکشن نہیں ہو سکتے، انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق پرانی حلقہ بندیوں اور اس کے بعد مردم شماری کروانا بھی ضروری ہو گا لیکن اس سے قبل قانون سازی کے لئے پہلے یہ بل اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس جائے گا اس کے بعد پاس کرنے کے لئے ایوان میں م پیش کیا جائے گا جس کے لئے دو سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہے اور نئی حلقہ بندیوں کے لئے چار سے پانچ ماہ کا عرصہ اور اسی طرح مردم شماری جو کہ 1998کے بعد نہیں ہوئی اگر کروائی جائے تو اس کے لئے ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہو گا، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت کا سپریم کورٹ جانے کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ پنجاب کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا ہے پہلے بھی الیکشن کمیشن نے ہی اپنا شیڈول سپریم کورٹ میں دیا تھا اور اب بھی اگر الیکشن کمیشن ضروری سمجھے گا تو وہ سپریم کورٹ جائے گا، حکومت الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے ہر فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی، صدر مشرف کے متعلق کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین توڑنے اور آئین سے غداری کرنے پر کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، صدر کو استثنیٰ سول معاملات میں حاصل ہوتی ہے کرمنل معاملات میں حاصل نہیں ہوتی۔

ہماری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی اعناد نہیں مگر ہم سمجھتے ہیں آئین توڑنے والے اور اس سے غداری کرنے والے کو سزا ملنا ملک وقوم اور آئین کی بالادستی کے لئے ضروری ہے۔ فوج ایک قومی ادارہ ہے اس کو کسی ایک شخص یا فرد کے ساتھ منسلک کرنا صحیح نہیں، حکومت کی جانب سے مولانا سمیع الحق سے مدد لینے کے سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ طالبان کے معاملات پر کسی سے بھی مدد لینا یا مذاکرات میں مدد کرنا ہر شخص کا قومی فریضہ ہے ، مولانا سمیع الحق کے بارے میں ہمیں پتہ چلا تھا کہ فضل اللہ کبھی ان کے مدرسے سے وابستہ رہا ہے اور مولانا نے خود طالبان سے مذاکرات کی دوبارہ پیش کش کی تھی جس کو حکومت نے ان کویہ ٹاسک دیا۔

کل کے مجاہدین ہی آج کے طالبان ہیں، مذاکرات ہی ملک وقوم کے لیے پہلی آپشن ہے۔ قرضہ سکیم کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلے 65سالوں میں ملک کے بڑے بڑے سرمایہ دار ملک کا دس ہزار ارب ہڑپ کر گئے ہیں، اب اگر 65سالوں کے بعد غریب کے لئے سو ارب مختص کئے گئے ہیں تو اس پر شیخ رشید کو ردعمل کے بجائے اس پر حکومت کے لئے نیک پیغام دینا چاہیے ، گارنٹی کے حوالے سے بینکوں کی پالیسی ہے اگر اس میں کہیں نرمی کی گنجائش ہوئی تو ضرور کی جائے گی مگر قرضے کی واپسی کے لئے گارنٹی بہت ضروری ہے۔

عمران خان اور طاہر القادری کی ریلیوں کے سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری کا سیاسی مستقبل 2018ء تک زیرو ہے اس وقت تک اپنے آپ کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لئے اس طرح کے ڈرامے کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔

Your Thoughts and Comments