پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن کروانے میں پوری طرح سنجیدہ ہے،گورنرپنجاب ،کالا باغ ڈیم سمیت دیگر قومی مفادات کے منصوبے سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں،ئی ایم ایف کے چنگل سے ہم اس وقت سے نہیں نکل سکتے جب تک بحیثیت قوم ہم ٹھیک نہیں ہوتے، صحافیوں سے گفتگو

جمعہ جنوری 07:42

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔3جنوری۔2014ء)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی الیکشن کروانے میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم سمیت دیگر قومی مفادات کے منصوبے سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے چنگل سے ہم اس وقت سے نہیں نکل سکتے جب تک بحیثیت قوم ہم ٹھیک نہیں ہوتے۔ پاک ایران گیس منصوبہ پورا ہو جاتا تو پاکستان کو رائیلٹی کی مد میں اربوں ڈالر ملنے تھے جی ایس ٹی پلس پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

جس کے بعد پاکستان کی 6 ہزار مصنوعات ڈیوٹی ادا کیے بغیر یورپین منڈیوں تک رسائی حاصل ہو گی۔ بھارت کو یورپ میں یہ سہولت میسر نہیں۔ کرسمس، ہولی، بیساکھی اور دیوالی سمیت تمام تہوار گورنر ہاؤس میں منائیں جائینگے۔ 25 دسمبر کا تہوار گورنر ہاؤس میں منانے سے پوری دنیا میں اچھا پیغام گیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ بات انہوں نے گزشتہ گورنر ہاؤس میں بیٹ رپورٹرز کے ساتھ ملاقات کے موقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا جب میں نے گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا تو میں نے گورنر ہاؤس کے دروازے سب کے لیے کھول دیئے تھے۔

اور بالخصوص عید کے موقعہ پر یتیم اور خصوصی بچوں کے ساتھ دن گزار کر بڑی خوشی حاصل ہوئی۔ آئندہ گورنر ہاؤس میں عید کے تہوار کی طرح کرسمس، ہولی، دیوالی کے تہوار بھی منائیں جائینگے۔ یونیورسٹی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ میرے اور وزیراعلیٰ کے درمیان ایجوکیشن کے حوالے سے کسی قسم کے اختلاف نہیں ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ہماری یونیورسٹیاں ہمارے مستقبل ہیں۔

یونیوسٹیاں ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کوئی بھی یورنیورسٹی قاعدہ قانون سے بالا تر نہیں جب تک کسی یونیورسٹی کو حکومت کی جانب سے چارٹرڈ جاری نہیں ہوتا تب تک یونیورسٹی والے طلبہ داخلے نہ کریں ۔ اس بات یہ مجھ سمیت وزیراعلیٰ بھی متفق ہیں۔ جی ایس ٹی پلس ذکرکرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے اس کام کے لئے اپٹما کا وفد مجھ سے دو دفعہ ملا تھا جس کے بعد یورپ میں جا کر اپنے دوستوں سے رابطہ کیا جن کی مدد سے ہمیں یہ کامیابی ملی۔

اس کے بعد پاکستانی 6 ہزار مصنوعات کو ڈیوٹی ادا کیے بغیر یورپین منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی۔ جبکہ بھارت کو یہ سٹیٹس حاصل نہیں ہے۔ اس کے بعد پاکستان کی ایکسپورٹ میں بہتری آئیگی۔ اور بے روز گاری کا خاتمہ ہو گا۔ بلدیاتی الیکشن کے سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ یورپ میں تمام ترقیاتی کام کونسل کرتی ہیں جبکہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران صرف قانون سازی کرتے ہیں۔

پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کروانے میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔ کالاباغ ڈیم اور پاک ایران گیس لائن منصوبے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کالا باغ ڈیم اور پاک ایران گیس جیسے منصوبے جو قومی مفادات میں ہوں ہمیشہ سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں پاک ایران منصوبہ اگر پایہ تکمیل تک پہنچ جائے تو بھارت کو گیس فراہمی کی نتیجے میں پاکستان کو ارائیلٹی کی مد میں لاکھو ں ڈالر ملنا تھے۔

انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ایشو بڑا سنجیدہ ہے اس پر سب کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو بجلی ڈیڑھ روپے میں ملے تو ملک ٹوٹ جاتا ہے اور اگر 20 روپے میں ملے اور اندھیروں میں ڈوب جائے تو ملک متحد رہتا ہے۔ آئی ایم ایف کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشکول توڑنے کی بات کرنے سے قبل میں بحیثیت قوم ٹھیک ہونا ہو گا۔ جب تک ہم نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نہیں سکتے۔

Your Thoughts and Comments