عدالتی فیصلے تک نیا کوچ نہیں آ سکتا،نجم سیٹھی ،نئے کوچ کی تقرری کااختیار نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک نئے کوچ کی تلاش کے بارے میں سوچا نہیں گیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی بات آگے بڑھائی گئی ہے کیونکہ جو بھی نیا کوچ بنے گا وہ دو ماہ یا ایک سال کے لیے نہیں ہوگا بلکہ اس کی تقرری کم از کم دو سال کے لیے ہوگی،عبوری چیئرمین پی سی بی کا رطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو

جمعہ جنوری 07:39

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔3جنوری۔2014ء)پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ادارے کے انتظامی امور چلانے کے بارے میں عدالتی فیصلہ آنے تک قومی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ کی تقرری نہیں کر سکے گا۔انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ فی الحال انہیں نئے کوچ کی تقرری کا اختیار حاصل نہیں ہے۔یہ تقرری ڈیو واٹمور کی جگہ عمل میں آنی ہے جو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان متحدہ عرب امارات میں جاری سیریز کے بعد کوچ نہیں رہیں گے۔

نجم سیٹھی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ یہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے ہی ابھی تک نئے کوچ کی تلاش کے بارے میں سوچا نہیں گیا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی بات آگے بڑھائی گئی ہے کیونکہ جو بھی نیا کوچ بنے گا وہ دو ماہ یا ایک سال کے لیے نہیں ہوگا بلکہ اس کی تقرری کم از کم دو سال کے لیے ہوگی۔

(جاری ہے)

نجم سیٹھی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ کا فیصلہ اسی ماہ متوقع ہے۔

انہیں امید ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اور انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوجائیں گے جس سے بے یقینی کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اختیارات نہ ہونے کے سبب وہ اس وقت سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین بھی مقرر نہیں کر پا رہے ہیں اور سلیکٹرز کے معاہدوں کی تجدید بھی ہر ماہ ہو رہی ہے جبکہ پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ محمد اکرم کے ساتھ بھی یہی معاملہ درپیش ہے کہ ان کا معاہدہ بھی ہر ماہ آگے بڑھادیا جاتا ہے۔

نجم سیٹھی نے مصباح الحق کو 2015 ء کے عالمی کپ تک کپتان بنائے جانے کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں انہیں کپتان کی تقرری سے نہیں روکا گیا تھا لہذا انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مصباح الحق کو ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کا فیصلہ کیا۔نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ فیصلہ ٹیم میں استحکام اور مستقل مزاجی کے لیے بہت ضروری تھا کیونکہ اس سے ایک جانب تو مصباح الحق کو اعتماد ملا اور دوسری جانب ٹیم میں ممکنہ گروپ بندی اور کپتان بننے کی خواہشات کا خاتمہ ہوا۔ان کے مطابق اگرچہ کئی لوگوں نے ان کے اس فیصلے پر اعتراض بھی کیا لیکن اس فیصلے کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments