ماوٴنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی سستی ہوگئی

ہفتہ جنوری 10:04

کٹھمنڈو(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3 جنوری۔2015ء) 2015 دنیا بھر کے آغاز پر کوہ پیماوٴں کے لیے ایک اچھی خبر، نیپال کی حکومت نے ماوٴنٹ ایورسٹ پر چڑھنے کے خواہشمند افراد سے لی جانے والی فیس میں کمی کر دی ہے۔نیپالی حکومت کی جانب سے یہ اعلان نئے سال کے آغاز پر کیا گیا ہے۔دنیا کا بلند ترین پہاڑ سر کرنے کے خواہشمند افراد کو اب سابقہ فیس کا نصف سے بھی کم ادا کرنا ہوگا۔

ماضی میں نیپال آنے والے غیر ملکی کوہ پیما حکام کو 25 ہزار ڈالر بطور فیس ادا کرتے تھے تاہم اب یہ رقم کم کر کے 11 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔نیپالی حکام نے ماوٴنٹ ایورسٹ کے علاوہ دیگر پہاڑوں پر چڑھنے کی فیس بھی کم کی ہے۔نیپال کے محکمہ سیاحت کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں کوہ پیمائی کو فروغ دینا ہے۔

(جاری ہے)

تاہم اس فیصلے سے کچھ کوہ پیما خوش نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایورسٹ پر چڑھنے والے افراد کی تعداد پہلے ہی زیادہ ہے اور فیس میں کمی سے اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو ماحول کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

نیپالی حکومت نے گذشتہ برس ہی ایورسٹ سر کرنے کے لیے جانے والے تمام کوہ پیماوٴں اور ان کے مددگار عملے کے لیے پہاڑ سے اترتے ہوئے آٹھ کلو کوڑا کرکٹ ساتھ لانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ماوٴنٹ ایورسٹ کی اونچائی 29029 فٹ یا 8848 میٹر ہے اور ہر سال یہاں کوہ پیمائی کی 30 مہمات جاتی ہیں۔ان مشنز سے حاصل ہونے والی فیس نیپال میں سیاحت سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کا اہم حصہ ہے۔اس وقت ماوٴنٹ ایورسٹ پر مہم جوئی پر کم از کم ایک لاکھ ڈالر مجموعی خرچ آتا ہے۔

Your Thoughts and Comments