نیب نے انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی تیار کی ‘جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں،قمر زمان چوہدری،2016ء میں بھی اس حکمت عملی پر عمل جاری رہے گا‘ چیئرمین نیب

اتوار جنوری 10:07

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3جنوری۔2016ء) چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب نے انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی تیار کی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اس حکمت عملی پر 2016ء میں بھی عمل جاری رہے گا، نیب نے گزشتہ سال بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی4.5بلین روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے، نیب نے مضاربہ سکینڈل میں 22 ارب روپے کے 12 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں، رینٹل پاور پراجیکٹ کے مقدمات میں 9 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے ہیں۔

کرپشن ایک ناسور ہے جس سے نہ صرف قومی وسائل ہڑپ ہوتے ہیں بلکہ قومی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے، اس سے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں بلکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوتا ہے ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے 1999ء میں قومی احتساب بیورو (نیب) کا انسداد بدعنوانی کے اعلیٰ ادارے کے طور پر قیام عمل میں لایا گیا اور اسے آگاہی اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے بدعنوانی ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

(جاری ہے)

نیب کے سات علاقائی بیوروز ہیں جبکہ اس کا ہید کوارٹر اسلام آباد میں ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی قیادت میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے جامع قومی انسداد بدعنوانی لائحہ عمل وضع کیا ہے نیب نے گزشتہ سال بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی4.5بلین روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے جبکہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی 265بلین روپے کی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے، 2013ء کے مقابلے میں 2014ء میں نیب کو دگنا شکایات موصول ہوئی نیب کو 2014ء میں 40 ہزار 77 درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ 2013ء میں 19900 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2013ء کے مقابلے میں 2014ء میں نیب کووگنا شکایات موصول ہوئیں۔ یہ لوگوں کا نیب پر اعتماد کا اظہار ہے۔ نیب نے 2014ء کے دوران 585 انکوائریاں، 188 انوسٹی گیشنز مکمل کیں جبکہ 2013ء کے دوران 243 انکوائریاں اور 129 انوسٹی گیشنز مکمل کی گئیں۔ اسی طرح 2014ء میں احتساب عدالتوں میں 208 مقدمات دائر کئے گئے جبکہ 2013ء میں 135 مقدمات دائر کئے گئے تھیلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق 42 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں جبکہ پولیس پر30 فیصد اور سرکاری افسران پر 29 فیصد لوگ اعتماد کرتے ہی۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کرپشن پرسیپشن انڈکس میں پاکستان 175 ویں نمبر سے 126 ویں نمبر پر آ گیا ہے اور پاکستان نے یہ پوزیشن نیب کی کوششوں سے حاصل کی ہے۔نیب نے نوجوانوں کو کرپشن کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ایچ ای سی کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ ملک بھر کی یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں نوجوانوں میں کرپشن کیخلاف آگاہی فراہم کرنے کیلئے نیب اور ایچ ای سی کے تعاون سے کردار سازی کی 10 ہزار سے زائد انجمنیں قائم کی گئی ہیں۔

نیب نے مضاربہ سکینڈل میں 22 ارب روپے کے 12 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں۔ ملزمان سے اب تک املاک اور گاڑیوں کے علاوہ ایک ارب 73 کروڑ روپے وصول کئے گئے ہیں۔ اس مقدمہ میں نیب نے اب تک 33 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، اسی طرح رینٹل پاور پراجیکٹ کے مقدمات میں 9 ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے ہیں۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت کام کو نمٹانے کے لئے اوقات کا تعین کیا گیا ہے۔

مقدمات کو شکایات کی جانچ پڑتال سے انکوائری اور انوسٹی گیشن زیادہ سے زیادہ اور احتساب عدالت میں بھیجنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دس ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ نیب کی تفتیش کے معیار میں بہتری لانے اور انوسٹی گیشن افسران کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تحقیقات کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس میں ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر اور سینئرلیگل قونصل شامل ہوتے ہیں ۔

چیئرمین نیب کی ہدایت پر معیاری گریڈنگ کا جامع نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے یکساں معیار اختیار کیا گیا ہے۔ 80 فیصد نمبر حاصل کرنے پر شاندار/بہترین، 60 فیصد سے 79 فیصد پر بہت اچھا، 40 فیصد سے 49 فیصد پر اچھا اور 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے پر اوسط سے کم کارکردگی سمجھی جاتی ہے۔

نیب کے علاقائی بیورو کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ جنوری 2016ء کے پہلے ہفتے سے شروع ہو گا اور یہ فروری 2016ء میں مکمل کر لیا جائے گا۔ نیب کے اندر ادارہ جاتی احتساب کا جامع نظام وضع کیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر نیب ملازمین کیخلاف تمام شکایات کی سینئر افسران کی معاونت سے معیاری انٹیلی جنس اور ماہرین کے ذریعے تحقیقات کی جاتی ہیں۔

ایسے ملازمین جو خراب کارکردگی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور کام کے معیاری طریقہ کار پر عمل نہ کر کے ادارے کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔ نیب ہیڈ کوارٹر میں سپیشل انٹیگریٹی مینجمنٹ سیل قائم کیا گیا ہے ۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر نیب نے نگرانی اور جائزے کا جامع نظام مرتب کیا ہے جس میں شکایات جمع کرانے، شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری ، انوسٹی گیشن اور پراسیکیوشن مرحلہ اورعلاقائی دفاتر اور ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا ریکارڈ جمع کرنے سمیت مقدمے سے متعلق بریفنگ، فیصلے اور اس کے شرکاء کی فہرست اور وقت اور مقام کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو معیاری اور مقداری جائزے کے ذریعے سزا دینے کا موثر نظام وضع کیا گیا ہے۔

نیب راولپنڈی بیورو میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے ۔ لیبارٹری میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ نیب نے کرپشن کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹا نے کیلئے ان کو چار درجوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 100 سے 200 ملین روپے کے مقدمات کو عام جبکہ 500 سے 1000 ملین روپے کے مقدمات کو کمپلیکس اور ہزار ملین روپے سے زائد کے مقدمات کو میگامقدمات قرار دیا جائے گا۔

نیب نے بہتر کیرئیر پلاننگ اور انسانی وسائل کی بہتری کیلئے ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا ہے، ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کی مدد سے ملازمین کی صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے 400 ریفریشر کورسز منعقد کئے گئے ہیں۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے عزم کے تناظر میں نیب اور ایس ای سی پی نے سینئر افسران پر مشتمل مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ایس ای سی پی کی جانب سے نیب کو بھیجے گئے مقدمات تیزی سے نمٹانے میں مدد ملے گی۔

نیب نے وزارت قانون و انصاف کو تجویز دی ہے کہ بدعنوانی کیخلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت وسل بلوئنگ پروٹیکشن قانون ملک کیلئے انتہائی اہم ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف وسل بلوئنگ پروٹیکشن قانون کی منظوری دے چکے ہیں اسے مزید ضروری کارروائی کیلئے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔ چیئرمین نیب کی ہدایت پر نیب کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ادارے نے میرٹ اور شفاف نظام کے ذریعے 110 سے زائد تحقیقاتی افسران بھرتی کئے ہیں جو پہلی بار پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں زیر تربیت ہیں نیب ملیشیا کی انسداد بدعنوانی کی اکیڈمی کی طرز پر نیب افسران کی تربیت کیلئے نیب انسداد بدعنوانی اکیڈمی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کو پہلی بار نظم و نسق کے تناظر میں ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا ہے، پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے 11ویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے میں کرپشن کے خاتمہ کو شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میرٹ بلاامتیاز احتساب پر یقین رکھتا ہے، 2014ء میں نیب نے انسداد بدعنوانی کا موثر قومی لائحہ عمل تیار کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور اس لائحہ عمل پر 2016ء میں بھی عمل جاری رہے گا

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments