سندھ میں عالمی مالیاتی اور امدادی اداروں کے ایک کھرب 62ارب 97کروڑ97لاکھ سے زائد کے 17منصوبوں پرعالمی اداروں اورو فاق کا عدم اعتماد کا اظہار، باقاعدہ نگرانی عالمی ادارے اوروفاقی حکومت کریں گے

اتوار جنوری 10:07

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3جنوری۔2016ء) سندھ میں عالمی مالیاتی اورعالمی امدادی اداروں کے ایک کھرب 62ارب 97کروڑ97لاکھ 50ہزارروپے کے 17منصوبوں پرعالمی اداروں اوروفاقی حکومت نے عدم اعتماد ظاہر کردیا ہے اوراب اس کی باقاعدہ نگرانی عالمی ادارے اوروفاقی حکومت کریں گے۔

(جاری ہے)

خبر رساں ادارے کودستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق عالمی بینک کے 6منصوبوں پر94ارب 36کروڑ93لاکھ 50ہزارروپے کی اشیائی ترقیاتی بینک کے 2منصوبوں پر36ارب 25کروڑ38لاکھ 40ہزارروپے کوریانے ایک منصوبہ پر4ارب 57کروڑ86لاکھ 20ہزارروپے اورچین نے 2منصوبوں پر3ارب 64کروڑ47لاکھ 50ہزارروپے کاقرض دیا ہے اسی طرح 11منصوبوں پرحکومت سندھ کوایک کھرب 38ارب 84کروڑ45لاکھ 60ہزارروپے کا قرض دیا گیا ہے ،جبکہ یوایس ایڈ نے 2منصوبوں پر20ارب 80کروڑ60لاکھ روپے جائکا نے 2منصبوں پر2ارب 95کروڑ44لاکھ 80ہزارروپے اوریواین ڈی پی نے ایک منصوبہ پر37کروڑ27لاکھ 10ہزارروپے کی گرانٹ یاامداددی ہے اسی طرح تینوں اداروں نے 5منصوبوں پر24ارب 13کروڑ31لاکھ 90ہزارروپے کی امداد دی ہے جوپانچ منصوبوں کے لیے ہے مجموعی طورپر17منصوبوں پرایک کھرب 97لاکھ 50ہزارروپے خرچ ہوں گے اب عالمی مالیاتی اورامدادی اداروں نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کران منصوبوں کی نگرانی شروع کردی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments