ہیپاٹائٹس ادویات کی قیمت کا تعین،وزارت صحت نے دوبارہ اجلاس طلب کرلیا ، اجلاس میں تمام 9 اراکین کو شرکت یقینی بنانے کیلئے سیکرٹری کی سخت ہدایات،حتمی تاریخ کا تعین ارکان کی مشاورت سے کیا جائے گا،کالے یرقان کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز،عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیا تھا،ڈرگ پرائس کمیٹی نے نئی گولی کی قیمت کا تعین کرنا تھا،کمیٹی کا اہم ترین اجلاس 31دسمبر کو ہونا تھا، 9 میں سے صرف ایک ممبر نے آنا گوارا کیا،ارکان کے شرکت نہ کرنیکی انکوائری کرونگا،شیخ ایوب،ڈرگ پرائس کمیٹی کے ممبران 28گولیوں کی قیمت 26ہزار روپے مقرر کرنے سے گریز کررہے ہیں ،ذرائع کا انکشاف

پیر جنوری 09:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔4جنوری۔2016ء) کالے یرقان (ہیپاٹائٹس ) کے علاج کیلئے نئی ادویات کی قیمت کا تعین کرنے کیلئے وزارت قومی صحت نے رواں ہفتے دوبارہ اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ اجلاس میں تمام 9 اراکین کو شرکت یقینی بنانے کیلئے سیکرٹری نے سخت ہدایات جاری کردیں ۔ حتمی دن اور تاریخ کا تعین اراکین سے مشاورت سے کیا جائے گا ۔ قبل ازیں اس کمیٹی کا اہم ترین اجلاس 31دسمبر کو ہونا تھا مگر 9 اراکین میں سے صرف ایک ممبر نے آنا گوارا کیا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں اس وقت کالے یرقان کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے عدالت عظمیٰ نے اس موذی مرض کے تدارک کیلئے سستے داموں ادویات کی فراہمی کیلئے ازخود نوٹس لیا تھا اور ڈرگ پرائس کمیٹی نے اس سلسلے میں نئی گولیوں سوبور میر کی قیمتوں کا تعین کرنا تھا مگر حیرت انگیز طور پر 31 دسمبر کو 9میں سے صرف ایک مریض نے اس کمیٹی کے اجلاس میں آنا پسند کیا ۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ڈرگ پرائس کمیٹی کے ممبران ان 28گولیوں کی قیمت 26ہزار روپے مقرر کرنے سے گریز کررہے ہیں دوسری طرف سپریم کورٹ کو کم قیمت کی یقین دہانی کروائی گئی تھی دوسری طرف وزارت صحت کے سیکرٹری شیخ ایوب نے کہا کہ میں اس سلسلے میں انکوائری کروں گا تاکہ ممبران نے اس اہم اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی اور رواں ہفتے کے دوران ایک بار اس کمیٹی کا اجلاس بلا کر حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا واضح رہے کہ 2013ء دسمبر میں امریکہ میں یہ گولیاں متعارف کروائی گئی تھیں اس دوائی کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ نے منظور کیا تھا اور ان گولیوں کو انٹر فیرون ٹیکوں سے زیادہ موثر قرار دیا گیا ہے امریکہ میں ان گولیوں کے ذریعے ایک ماہ کیلئے علاج کیلئے 28گولیوں کی قیمت 26ہزارمقرر کی گئی ہے جبکہ پاکستان میں اتنی قیمت برداشت کرنا عوام کے بس میں نہیں ہے کئی کمپنیوں نے یہ گولیاں پاکستان میں تیار کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اب تک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے دس کمپنیوں کو اس مد میں رجسٹرڈ کیا ہے لیکن قابل تشویش بات یہ ہے کہ ان گولیوں کی قیمت بروقت مقرر نہ ہونے سے کمپنیاں ان کی تیاری میں ہچکچا ر ہی ہیں

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments