سکیورٹی ایجنسیوں کا احتساب نہ ہوا تو گمشدہ افراد کا مسئلہ مزید خراب ہو جائے گا، فرحت اللہ بابر، 2013میں سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے قانون کا ایک مسودہ تیار کیا جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا،حکومت پیش کردہ سفارشات اور قانون کے مسودے پر اپنے اعتراضات کو سامنے لائے اور پارلیمنٹ میں گمشدہ افراد کے مسئلے پر بحث کی جائے،سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال

ہفتہ مارچ 09:02

سکیورٹی ایجنسیوں کا احتساب نہ ہوا تو گمشدہ افراد کا مسئلہ مزید خراب ..

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5مارچ۔2016ء)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی نے سینیٹ میں لوگوں کے پراسرار طور پر گم ہونے پر اور یورپین کمیشن کی پاکستان میں انسانی حقوق کی رپورٹ پر توجہ دلاؤ نوٹس پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر شفافیت کو متعارف نہیں کرایا جاتا اور ملک کی سکیورٹی ایجنسیوں کی نگرانی اور احتساب نہیں ہوتا تو گمشدہ افراد کا مسئلہ مزید خراب ہوتا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بھی اس کا احساس ہے اور 2013میں سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے قانون کا ایک مسودہ تیار کیا جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم پیش کردہ سفارشات اور قانون کے مسودے پر اپنے اعتراضات کو سامنے لائے اور پارلیمنٹ میں گمشدہ افراد کے مسئلے پر بحث و مباحثہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جلد اور سستے انصاف کو مہیا کرنے کے لئے پوری سینیٹ کی کمیٹی نے بھی گمشدہ افراد کے مسئلے کا نوٹس لیا تھا اور حکومت سے کہا تھا کہ ایک ماہ کے اندر ایوان کے دونوں جانب نمائندوں پر مشتمل ایک نگران کمیٹی بنائی جائے۔

اگر یہ کمیٹی حکومت کی رپورٹ سے مطمئن ہے تو پیش رفت کو ایوان میں پیش کرے لیکن اگر کمیٹی مطمئن نہیں تو کمیٹی یہ سفارش کرے گی کہ اس بل کو پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا سینیٹ کی پوری کمیٹی نے 2015میں یہ بل منظور کیا تھا۔ انہوں نے معلقہ وفاقی وزیر سے کہا کہ وہ ایوان کو بتائے کہ اس مسئلے پر حکومت کا کیا موقف ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر ایک مزید قدم یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں سول پاور ریگولیشن پر عملدرآمد کی پیش رفت پر نظرثانی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ 2011 میں اس ریگولیشن کو نافذ کیا تھا جس پر فروری 2008 سے عملدرآمد ہونا تھا جس کی مدد سے سکیورٹی ایجنسیو ں کو عدالت میں لایا جا سکتا ہے اور ان لوگوں کو بھی عدالت میں لانا چاہیے تھا جو لوگ ایجنسیوں کی حراست میں گزشتہ چار سال سے تھے۔ انہوں نے متعلقہ وفاقی وزیر سے کہا کہ وہ ایوان کو اس بات سے مطلع کریں کہ 2008ء سے 2011ء تک سکیورٹی ایجنسیوں کے قبضے میں کتنے افراد تھے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کتنے لوگوں پر مقدمہ دائر ہوا، کتنے لوگوں پر الزام ثابت ہوا ہے اور کتنے لوگ ابھی تک حراست میں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ معلومات خفیہ نہیں ہونی چاہئیں اور کسی کو مقدس نہیں سمجھنا چاہیے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یورپین کمیشن کی رپورٹ نے زیرحراست افراد پر تشدد کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا ہے۔ پاکستان میں تشدد کے خلاف کنونشن کی توثیق کی ہوئی ہے اور ان پر یہ لازم ہے کہ تشدد سے تحفظ کے لئے اس قانون کو لاگو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مارچ میں سینیٹ نے انسداد تشدد بل اتفاق رائے سے پاس کیا تھا جسے اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیجا گیا ہے کیونکہ قومی اسمبلی 90روز کے عرصے میں اس بل کو منظور نہیں کر سکی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس فوری طور پر بلایا جائے جس میں انسداد دہشتگردی بل، انسداد غیرت کے نام پر قتل کا بل اور دیگر بلوں پر آئین کے تحت بحث کی جا سکے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments