ملک میں ایل این جی آنا شروع، گیس کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی،جام کمال

منرل واٹر اورگھی بنانے والے فیکٹریوں کو ہر تین ماہ بعد چیک اور معیار کو جانچا جاتا ہے 52غیر معیاری منرل واٹر کمپنیوں کو بند کیا گیا،قومی اسمبلی وقفہ سوالات کا جواب

جمعرات نومبر 11:39

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔24نومبر۔2016ء)قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں ایل این جی آنا شروع ہوگئی ہے جس سے ملک میں گیس کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی،منرل واٹر اورگھی بنانے والے فیکٹریوں کو ہر تین ماہ بعد چیک کیا جاتا ہے اور معیار کو جانچا جاتا ہے جبکہ52غیر معیاری منرل واٹر کمپنیوں کو بند کیا گیا ہے۔بدھ کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ آئندہ الیکشن کیلئے ایسے افراد کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی جن کی عمریں 55سال سے زائد ہوں گی ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ الیکشن میں صوبائی وقومی اسمبلی کے ملازمین کو شامل کیا جائے گا یا نہیں الیکشن کمیشن کے پاس اس حوالے سے تجاویز موجود ہیں کہ الیکشن سے قبل الیکشن کروانے والوں کی ٹریننگ کا بندوبست کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حیدرآباد ٹو سکھر موٹروے جی او ٹی پر بنائی جائے گی اور اسے بنانے کیلئے10پارٹیوں نے حصہ لیا ہے جو بھی پارٹی اچھی نظر آئی اس کو یہ سڑک دیدی جائے گی جبکہ وزیراعظم نے بھی اس کی منظوری دیدی ہے جبکہ حیدرآباد ٹو کراچی کی سڑک ایف ڈبلیو او بنا رہا ہے اور20سال تک کی اس کی مرمت بھی وہی کریگا اور پشاور طورخم ٹو جلال آباد کی سڑک جس کی لمبائی282کلومیٹر ہے جس کو حکومت موٹروے میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ خطے کو ایک تجارتی حب میں تبدیل کیا جاسکے جبکہ پارلیمانی سیکرٹری جام کمال نے بتایا کہ تاپی اور آئی پی گیس کا منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوا ہے اور اسے مکمل ہونے میں وقت لگے گا ملک میں ضرورت کے مطابق گیس موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام کو مسلسل گیس کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔

ایل این ای ملک میں آنا شروع ہوگئی ہے جس سے ملک میں گیس کی قلت پر قابو پانے میں کافی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سالانہ اڑھائی لاکھ گیس کنکشن صارفین کو مہیا کئے جاتے ہیں لیکن درخواستیں ان سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں اور ایک کنکشن کیلئے دو سے تین ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی غلط نہیں ہے کہ ابھی تک سالوں کے گیس موجود ہیں جن کے کنکشن نہیں لگائے گئے ہیں ملک میں گیس کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جس کیلئے دیگر ریسورسز تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہیں،پارلیمانی سیکرٹری طلال چوہدری نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ منرل واٹر اور گھی بنانے والی کمپنیوں کو سہہ ماہی بنیادوں چیک کرتے ہیں اور جو بھی معیار اور ٹیسٹ پر پورا نہیں اترتے ان کمپنیوں کو بند کرایا جاتا ہے یا ان کا لائسنس کینسل کردیا جاتا ہے اور اس کارروائی کے تحت سینکڑوں کمپنیوں کو بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی اپنی پراڈکٹ باہر بھی سیل کرنا چاہتی ہے تو پھر اس کے معیار کو جانچا جائے گا اگر ان کا معیار عالمی معیار کے مطابق ہو تو پھر اسے لائسنس جاری کردیا جائے گا۔پارلیمانی سیکرٹری طلال چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ ہوٹلوں پر چھاپے مارنا اور گھی کے معیار کو چیک کرنا ہمارا کام نہیں ہے اس کیلئے ادارے موجود ہیں جو اپنا کام کر رہے ہیں،ہمارا کام صرف پلانٹس کو چیک کرنا ہے جو ہم کر رہے ہیں جبکہ پارلیمنٹ کو تحریری طور پر بتایا گیا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران مارکیٹ قوتوں کی جانب سے ایل پی جیز صارفین اور ڈسٹری بیوشن پرائسز کا تعین کیا گیا جو کہ100روپے کا84روپے فی کلوگرام کے درمیان رہی ہیں

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments