صاف پانی‘ سڑکوں کی بندش ، پولیس مقابلوں پر از خود نوٹس ‘ وزیراعلیٰ پنجاب نے رپورٹ کیلئے تین ہفتے کی مہلت مانگ لی

عدالت کا جاتی امراء‘ ماڈل ٹائون‘ گورنر ہائوس‘ طاہر القادری کی رہائش گاہ‘ ایبٹ روڈ‘ گارڈن ٹائون‘ جامعہ قادسیہ‘ چوبرجی‘ ایوان عدل سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم، ایک سال کے دوران ہونے والے پولیس مقابلوں کی سات روز میں رپورٹ طلب ْ آئی جی پنجا ب نے پولیس مقابلوں کی رپورٹ کیلئے وقت مانگ لیا ، سپریم کورٹ نے مسترد کردیا عدالت آپ کے تعاون اور اشتراک سے عوامی مسائل کا خاتمہ چاہتی ہے،چیف جسٹس کا شہباز شریف سے مکالمہ

اتوار فروری 18:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار فروری ء) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی‘ سڑکوں کی بندش اور پولیس مقابلوں کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے صاف پانی منصوبے کی رپورٹ کے لئے تین ہفتے کی مہلت مانگ لی‘ چیف جسٹس نے شہباز شریف سے کہا کہ عدالت آپ کے تعاون اور اشتراک سے عوامی مسائل کا خاتمہ چاہتی ہے‘ سڑکوں کی بندش کے معاملے پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے جاتی امراء‘ ماڈل ٹائون‘ گورنر ہائوس‘ طاہر القادری کی رہائش گاہ‘ ایبٹ روڈ‘ گارڈن ٹائون‘ جامعہ قادسیہ‘ چوبرجی‘ ایوان عدل سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا ‘ پنجاب میں پولیس مقابلوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ایک سال کے دوران ہونے والے پولیس مقابلوں کی سات روز میں رپورٹ طلب کرلی‘آئی جی پنجاب عارف نواز نے عدالت سے پولیس مقابلوں کی رپورٹ کیلئے وقت مانگ لیا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔

(جاری ہے)

اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی‘ سڑکوں کی بندش اور پولیس مقابلوں کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی‘ کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ صاف پانی کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے علاوہ صوبائی وزیر بلدیات منشاء الله اور میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید بھی طلب کئے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے صاف پانی منصوبے کی رپورٹ کے لئے تین ہفتے کی مہلت مانگ لی اور کہا کہ تمام منصوبوں میں شفافیت کو برقرار رکھنا میری ترجیح رہی ہے صوبے میں عوامی مسائل کے خاتمہ کے لئے انتھک کام کیا حکومت نے عوامی فلاح کے لئے بڑے منصوبے شروع کئے حکومت نے تشہیر کی بجائے عوامی خدمت پر توجہ دی ہم نے عوامی ترقی کے میگا پراجیکٹس میں اربوں روپے بھی بچت کی۔

پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے پاور پراجیکٹ شروع کئے ان پراجیکٹس سے سستی بجلی کا حصول ممکن ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا صوبہ دیگر صوبوں کی نسبت اچھا کام کررہا ہے عدالت آپ کے تعاون اور اشتراک سے عوامی مسائل کا خاتمہ چاہتی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام اور ملکی بقاء کے لئے عدلیہ کی آزادی ضروری ہے۔ سڑکوں کی بندش کے معاملے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے جاتی امراء‘ ماڈل ٹائون‘ گورنر ہائوس‘ طاہر القادری کی رہائش گاہ‘ ایبٹ روڈ‘ گارڈن ٹائون‘ جامعہ قادسیہ‘ چوبرجی‘ ایوان عدل سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ سڑکیں کس قانون کے تحت بند کیں۔

سکیورٹی ضرور دیں مگر سڑکیں بند کرنے کی ا جازت نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہباز شریف صاحب عدالت میں خوش آمدید کہتے ہیں آپ کی آمد پر مشکور ہیں میاں صاحب عوامی آدمی بنیں اور عوام میں آئیں کیوں پولیس اہلکاروں نے آپ کو ڈرا رکھا ہے ہم جانتے ہیں آپ ہماری بہت عزت کرتے ہیں ایک آپ ہی تو ہیں جو اکیلے عدلیہ کی عزت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں نے کچھ عرض کیا تو حکم عدولی ہوگی چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تو لیڈ کرنے والے ہیں شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد کی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب یہ بات آپ اپنی پارٹی کو بھی سمجھائیں۔ میں تین مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ صاف اور شفاف الیکشن کرانے ہیں تعلیم اور صحت کے مسائل میں سپریم کورٹ آپ کی معاونت کرے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ کول پاور پلانٹ سمیت درجنوں ترقیاتی منصوبے شروع کئے۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ ہر پراجیکٹ پر بلین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں ہم کم لاگت منصوبوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔

پنجاب میں پولیس مقابلوں پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ایک سال کے دوران ہونے والے پولیس مقابلوں کی سات روز میں رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میاں شہباز شریف صاحب آپ عام آدمی ہیں آپ کو عوام میں جانا چاہئے عوام کو کیا پیغام دینا ہے۔ آئی جی پنجاب عارف نواز نے عدالت سے پولیس مقابلوں کی رپورٹ کیلئے وقت مانگ لیا جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔

عدالت نے بغیر بلائے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود کے روسٹرم پر آنے پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں روسٹرم سے واپس نشست پر بھیج دیا۔ رانا مشہور نے ایڈووکیٹ جنرل کے کان میں سرگوشی کی جس پر چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ عدالت کا ڈیکورم کیا ہے اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔

Your Thoughts and Comments