نیب قوانین میں ترامیم کا بل فنانس بل 2018 ء میں شامل کرنے کا امکان

خفیہ طریقے سے بل منظور کراکے نیب کے ادارہ کو کمزور کردیا جائے گا

اتوار اپریل 22:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء) وفاقی حکومت نے نیب قوانین میں ترمیمی بل کو چھپ کر پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا نیا طریقہ سوچا ہے‘ حکومت نے نیب قوانین کو فنانس بل 2018 ء میں شامل کرکے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کرائے جانے کا امکان ہے۔ نیب قوانین میں عوام کا شدید ردعمل کے نتیجہ میں شاہد خاقان عباسی کی حکومت کی طرف سے امکان ہے کہ وہ خفیہ طریقہ سے نیب قوانین کو فنانس بل کا حصہ بنا کر پارلیمنٹ سے منظور کرائے گی۔

(جاری ہے)

نئے قوانین کی روشنی میں نیب کا ادارہ ختم ہوکر رہ جائے گا ۔نئے قوانین کے تحت چیئرمین نیب سے اختیارات واپس لے لئے جائیں گے جبکہ کرپشن مقدمات کو عدالت میں ریفرنس دائر کرانے سے پہلے پارلیمانی کمیٹی سے منظوری بھی لی جائے گی۔ حکومت کے قانونی ماہرین یہ سوچ رہے ہیں کہ نیب قوانین کا مجوزہ ترمیمی بل کو فنانس بل کا حصہ بنا کر خفیہ انداز میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے گا کیونکہ 90 فیصد سے زائد پارلیمنٹ کے ممبران فنانس بل پڑھتے بھی نہیں ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہین۔ حکومت کا یہ نیا طریقہ کار پر اب اپوزیشن جماعتین فنانس بل کی تمام شقوں پر خصوصی عور کرنا ہوگا تاکہ حکومت خفیہ طریقہ سے بل منظور نہ کر اسکے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments