نواز شریف، عمران خان نے کبھی پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال نہیں رکھا اور اسکی بات کررہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

عمران خان نے سینٹ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا لہٰذا انہیں بھی پارٹی سے استعفیٰ دینا چاہیے ندیم افضل چن نظریاتی نہیں تھے، جو لوگ پارٹی کے نظریے کے ساتھ مخلص ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوں گے، کیٹی بندرمیں مینگروز کے پودے لگانے کی مہم کی افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو

جمعرات اپریل 23:29

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات اپریل ء)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان دونوں نے کبھی بھی پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال نہیں رکھا اور اب وہ پارلیمنٹ کے تقدس کی بات کررہے ہیں۔ایہ بات نہوںنے جمعرات کے روزج کیٹی بندرمیں مینگروز کے پودے لگانے کی مہم کی افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پارلیمنٹ کے لیے جو عزت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سینٹ کے الیکشن کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ نہیںکیا۔اب انہوںنے کے پی کے اسمبلی کے اپنی20 ایم پی ایز کو پارٹی کے امیدواروں کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ نہ کرنے پر اپنی جماعت سے نکال دیاہے اور حقیقت میں دیکھا جائے تو انہوں نے بھی قومی اسمبلی میں سینٹ الیکشن کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیاہے لہٰذا انہیں بھی پارٹی سے استعفیٰ دینا چاہیے جیسا کہ انہوں نے اپنے ایم پی ایز کو نکالا ہے۔

(جاری ہے)

نواز شریف کی جانب سے ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے مہم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی پارلیمنٹ کے تقدس کو قبول نہیں کیا ہے اور اپنے دورِ وزارت عظمیٰ کے دوران صرف 6 مرتبہ اسمبلی سیشن میں شرکت کی اور اب وہ ووٹ کے تقدس کی بات کررہے ہیں جوکہ تعجب کی بات ہے۔ندیم افضل چن جنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ موجود تو تھے مگر انہوں نے اپنی وفاداری بہت پہلے تبدیل کرلی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو کہ پارٹی کے نظریے کے ساتھ مخلص ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھٹھہ سے کیٹی بندر سڑک وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے تعمیر کرائی تھی جب انہوں نے کیٹی بندر منصوبے شروع کرنے کے لیے کیٹی بندر کا دورہ کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے صوبہ بھر میں انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے اچھے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی بھی دیہاتوں ، شہروں اور اضلاع میں انفرااسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے کافی گنجائش موجود ہے۔

ضلع ٹھٹھہ ایک اہم ضلع ہے جو سندھ کا دارالخلافہ بھی تھا۔جب یہاں پر تجارت و کاروبار کا دور دورہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹھٹھہ کی شاندار ماضی کو بحال کریں گے اور کیٹی بندرمیں بندرگاہ تعمیر کریں گے۔قبل ازیں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیٹی بندر پر سمندر میں واقع ایک چھوٹے جزیرے میں پودا لگا کر مینگروز کی شجر کاری مہم جو کہ محکمہ جنگلات نے ایک نیا عالمی ریکارڈ بنانے کے لیے شروع کی ہے کا افتتاح کیا۔

چیئرمین پی پی پی ،وزیر اعلیٰ سندھ ، صوبائی وزرائ نثار کھڑو ، ناصرشاہ، غلام قادر ملکانی ایک کشتی کے ذریعے گہرے سمندر میں گئے اور جزیرے پر پہنچے جہاں پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شجر کاری مہم کا افتتاح کیا۔محکمہ جنگلات سندھ کے پاس 24 گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ ہے جوکہ ایک بار پھر 19 اپریل 2018 کو جوہو ضلع ٹھٹھہ میں 24 گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کا ایک اور ریکارڈ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

اس سے قبل محکمہ جنگلات سندھ نے 2013 میں کھارو چھان ضلع ٹھٹھہ میں 847275 پودے لگا کر جو ریکارڈ قائم کیاتھا وہ ابھی تک برقرار ہے۔اس وقت کم از کم 10 لاکھ (ایک ملین) مینگروز کے پودے لگانے کا ہدف مقرر کیاگیا ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈ اتھارٹیز کی جانب سے مقرر کیے گئے معیار اور گائڈلائنز کے مطابق24 گھنٹے کے عرصے میں 300 پلانٹرس کے ذریعے صرف دن کی روشنی کے دوران ریکارڈ بنانا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری جنگلات سہیل اکبر شاہ نے بتایا کہ ریکارڈ بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت کی دستیابی بہت اہم ہوتی ہے اس حوالے سے پاکستان نیوی کے ٹائڈل ڈیٹا سے مدد لی گئی جس کے مطابق 19 اپریل 2018 کی تاریخ بہت مناسب تھی جہاں ہم زیادہ سے زیادہ دن کی روشنی یعنی تقریباً 12.5گھنٹے حاصل کرسکتے ہیں اسی لیے صحیح وقت میں ہم صبح ساڑھے 6 بجے تا شام 7 بجے پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ہم ریکارڈ بنانے کی کوشش کریں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے اس عمل کا مقصد انڈس ڈیلٹا اور مینگروز کی اہمیت اس کی افادیت پر روشنی ڈالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے گنیز ورلڈ ریکارڈ 2009 اور 2013 کے تجربے کی بدولت ساحلی علاقوں میں سماجی ترقیاتی سرگرمیوں کا ان علاقوں میں فروغ حاصل ہوا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ کی جانے والی کوشش کے لیے سندھ حکومت نے سرمایہ کاری کی ہے جبکہ پاکستان نیوی نے لاجسٹک اور مٹیریل کے حوالیسے تعاون فراہم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ میڈیا ، سول سوسائٹی، مقامی نمائندوں اور کمیونٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر اس اہم قومی ایونٹ میں فعال شرکت کے حوالے سے تعاون کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کے گروپس اور مقامی اور قومی نمائندگان بھی اس موجودہ کوشش اور محکمہ جنگلات کی دیگر کاوشوں کا احاطہ کرسکیں گے۔#

Your Thoughts and Comments