حکومت پاکستان بینائی سے محرومی کی روک تھام کے لئے کوشاں ، اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے لئے پرعزم ہے، شاہد خاقان عباسی

وزیر اعظم کی دولت مشترکہ سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر بینائی کے حوالے سے فلاحی اقدامات اٹھانے والے عالمی اداروں کے ساتھ اجلاس میں گفتگو پیک وژن اور سی بی ایم کا اس نیک مقصد کے لئے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق

جمعرات اپریل 23:41

لندن(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات اپریل ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بصارت سے محرومی کی روک تھام کے لئے کوشاں ہے اور اس ضمن میں ہر ممکنہ اقدامات اٹھانے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو یہاں دولت مشترکہ سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پربینائی کے حوالے سے فلاحی اقدامات اٹھانے والے عالمی اداروں"پیک وژن" اور "سی بی ایم" کے ساتھ اجلاس میں کہی۔

واضح رہے کہ پیک وژن بینائی سے محرومی کے خاتمے کے لئے ترقی پذیرممالک میں سمارٹ فون ٹیکنالوجی کے استعمال اور صحت سے متعلق افرادی قوت کی تربیت کے میدان میں ایک ممتازعالمی ادارہ ہے، سی بی ایم آنکھوں کی نگہداشت پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک صدی سے زائد عرصے سے عالمی سطح پر بینائی سے محرومی کے شعبہ میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری ترقیاتی تنظیم ہے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پیک وژن کی نمائندگی اس کے سی ای او اور شریک بانی ڈاکٹر اینڈریو باستائوروس نے کی جبکہ سی بی ایم کی نمائندگی ڈائریکٹر آئی ہیلتھ ڈاکٹر بابر قریشی نے کی۔ اجلاس میں قابل علاج نابینا پن کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان کو درپیش بڑے چیلنج پر توجہ مرکوز رہی، ایک تخمینے کے مطابق پاکستان کے 80لاکھ سے زائد شہری بینائی سے محرومی کا شکار ہو رہے ہیں۔

سی بی ایم کے ساتھ پیک وژن پاکستان کے صحت کے بنیادی ڈھانچے اور عملے کو بروئے کار لا کر پاکستانی شہریوں کے لئے تشخیص اور علاج کے حوالے سے جدید ترین حل پیش کرنے کے لئے اپنی شراکت داری کے لئے تیار ہے۔ وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے پیک وژن کو پاکستان کے دورہ کی دعوت دیتے ہوئے پاکستان میں نابینا پن کی روک تھام کے لئے حکومت کے عزم کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس ضمن میں ایک قومی پروگرام کے لئے حکومت کی بھرپور حمایت کا بھی اظہار کیا۔ پیک وژن اور سی بی ایم نے اس نیک مقصد کے لئے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی علی جہانگیر صدیقی اور برطانیہ میں پاکستان ہائی کمشنر سید ابن عباس بھی اجلاس میں شریک تھے۔

Your Thoughts and Comments