احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف اور مریم نواز کی حاضری سے 7 دن کے استثنیٰ کی درخواست مسترد

کرکے ایک دن کا استثنیٰ دیا آئندہ سماعت پر مجبوری کے باعث پیش نہ ہو سکیں تو دوبارہ درخواست دائر کر دیں، جج محمد بشیر، نیب کی لندن فلیٹس سے متعلق لینڈ رجسٹری، یوٹیلٹی بلز اور ٹیکس اسٹیٹمنٹ کی اضافی دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لانے کی درخواست منظور، ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ بطور گواہ پیر کو طلب، ریفرنس کی مزید سماعت 23 اپریل تک کے لئے ملتوی

جمعہ اپریل 19:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ اپریل ء)احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف اور مریم نواز کی حاضری سے 7 دن کے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایک دن کا استثنٰی دے دیا اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر مجبوری کے باعث پیش نہ ہو سکیں تو دوبارہ درخواست دائر کر دیں، عدالت نے نیب کی لندن فلیٹس سے متعلق لینڈ رجسٹری، یوٹیلٹی بلز اور ٹیکس اسٹیٹمنٹ کی اضافی دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لانے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ کو بطور گواہ پیر کو طلب کر لیا اور ریفرنس کی مزید سماعت 23 اپریل تک کے لئے ملتویی۔

جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف اور مریم نواز کے وکلا کی جانب سے حاضری سے ایک ہفتے کیلئے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں۔ نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے درخواستوں کی مخالفت کی۔ بیگم کلثوم نواز کی 18 اپریل کی تازہ میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ کلثوم نواز کینسر کی مریضہ اور لندن میں زیر علاج ہیں، ان کی ریڈیو تھراپی ہوئی ہے اور دوبارہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، ایسے موقع پر نواز شریف اور مریم نواز کا وہاں ہونا ضروری ہے لہٰذا انسانی بنیادوں پر ایک ہفتے کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

عدالت نے دونوں وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو بعد ازاں سناتے ہوتے ہوئے عدالت نے حاضری سے ایک ہفتے کے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تاہم دونوں کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ملزمان مجبوری کی وجہ سے پیش نہ ہوسکیں تو اس وقت استثنیٰ کے لیے دوبارہ درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

دوران سماعت نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے اضافی دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لانے اور ڈی جی آپریشنز نیب کو گواہ بنانے کی استدعا کی۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انٹرنیشنل کوآپریشن ونگ نیب کو فلیگ شپ اور ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق دستاویزات ملی ہیں۔ اس موقع پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے اعتراض اٹھایا کہ رجسٹری ریکارڈ سے متعلق پہلے ہی گواہ پر جرح ہوچکی ہے جب کہ اس سے پہلے نیب نے اضافی شواہد ریکارڈ پر لانے کے لیے ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔

اضافی دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لانے کی درخواست پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔ بعد ازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی جانب سے نئی دستاویزات پیش کرنے کی درخواست منظور کرلی جس کے بعد لندن فلیٹس سے متعلق لینڈ رجسٹری، یوٹیلٹی بلز اور ٹیکس اسٹیٹمنٹ انہیں دستاویزات کا حصہ ہوں گی۔عدالت نے ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ کو بطور گواہ پیر کو طلب کرلیا جب کہ فلیگ شپ کی ملکیت سیمتعلقہ دستاویزات بھی عدالت میں پیش کی جائیں گی۔ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کی مزید سماعت 23 اپریل تک کے لئے ملتوی کردی ۔

Your Thoughts and Comments