اہم سیاسی شخصیات سے سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ سراسر غلط اور ناانصافی پر مبنی ہے ،اگر مجھے یا میرے کسی بھی ساتھی کو نقصان پہنچا توذ مہ داری چیف جسٹس پر عائد ہوگی، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان

اتوار اپریل 23:21

ارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار اپریل ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اہم سیاسی شخصیات سے سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ سراسر غلط اور ناانصافی پر مبنی ہے ،اگر مجھے یا میرے کسی بھی ساتھی کو نقصان پہنچا تو ذمہ داری چیف جسٹس پر عائد ہوگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں ایم سی ون اور ایم سی فور کے مشترکہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ جن افراد سے سیکورٹی واپس لی گئی ہے انہوں نے امن کے قیام کی خاطر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانی دی اور اے این پی کبھی بھی دہشت گردی کے خلاف اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی،انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان نے ہمیشہ متنبہ کیا کہ یہ جنگ جہاد نہیں فساد ہے لیکن اس وقت ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ،آج پوری دنیا ہمارے اسلاف کی معترف اور عدم تشدد کی بات کر رہی ہے ، ہم پر الزام لگانے والوں نے رد الفساد شروع ہونے کے بعد خاموشی کیوں اختیار کر لی اسفندیار ولی خان نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ پانچ سال تک آنے والی تبدیلی کا پول اس وقت کھل گیا جب چیف جسٹس نے پشاور کا دورہ کیا ، انہوں نے کہا کہ در حقیقت تبدیلی پی ٹی آئی میں آنی چاہئے جس میں نظریاتی کارکنوں کو دیوار سے لگا کر دوسری جماعتوں کے لوگوں کو شامل کر کے آگے لایا جا رہا ہے، سینیٹ الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنا ایمان اور ضمیر بیچنے والوں سے قوم کیا توقع رکھ سکتی ہے، عمران خان نے ووٹ بیچنے والوں کو پارٹی سے نکالا اور خواتین نے قرآن پاک پر حلفیہ اس الزام کی تردید کر دی جس کے بعد الزام لگانے والوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے،انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ عمران خان دوسری جماعتوں کے ممبران کو الزام لگا کر اپنی پارٹی سے کیسے نکال رہے ہیں،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان بتایہں یہ اوپر والے کون لوگ ہیں جن کے بارے میں سراج الحق نے الزام لگایا ہے ، کپتان قوم کو اعتماد میں لیں اور سراج الحق کے الزام کی وضاحت کریں، سب سے بڑی زیادتی مولانا سمیع الحق کے ساتھ کی گئی جنہیں انکار کے باوجود پی ٹی آئی نے سینیٹ الیکشن میں کھڑا کیا،انہوں نے کہا کہ حقیقت میں تحریک انصاف نے خود اپنے ممبران کو رقم دے کر ووٹ خریدے اور ان ممبران نے اپنا ووٹ دو بار فروخت کیا،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چار ارکان اسمبلی نے سارا پول کھول دیا ہے اور اب اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ تحریک انصاف کے ارکان سب سے زیادہ بکے ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان بچوں کا کھیل جاری رہا دوبار کرپشن کی بنیاد پر حکومت سے نکالی جانے والی کیو ڈبلیو پی سینیٹ الیکشن میں پھر آنکھ مچولی کرتی نظر آئی ، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنی آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں ،اٹھارویں ترمین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پختونوں کے صوبے کی شناخت اور این ایف سی ایوارڈ اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے اپنی اس عظیم کامیابی کو کسی کی جھولی میں ڈالیں گے، انہوں نے کہا کہ کسی نے بھی اٹھارویں ترمیمم کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اے این پی سڑکوں پر نکلے گی جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

(جاری ہے)

سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ سی پیک میں پختونوں کا کتنا حصہ ہے ، مرکزی صدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک کے تمام وسائل پنجاب کے روٹ پر لگا دیئے گئے اور مغربی اکنامک کوریڈور کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جس کی وجہ سے یہاں کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا ، انہوں نے کہا کہ پنجاب کو پاکستان تصور کرنے کا تاثر زور پکڑ گیا ہے اور سی پیک چائنہ پنجاب اکنامک کوریڈور تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ پختونوں کو صرف ایک سڑک دی گئی، فاٹا کے حوالے سے اسفندیار ولی خان نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا اور کہا کہ خود حکومت نے کمیٹی بنائی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا اعلان کیا جسے آج تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا، انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں اسے نمائندگی دی جائے اور آئینی ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں بھی فاٹا کا حصہ مقرر کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی یہ مسائل حل نہ کئے گئے تو حالات اتنے زیادہ بگڑ جائیں گے کہ پھر کوئی انہیں کنٹرول نہیں کر سکے گا،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک فون کال پر فاٹا اصلاحات کا بل رکوا سکتے ہیں تو ایک ٹیلی فون کے ذریعے شریعت کیوں نافذ نہیں کرا سکتے جس کیلئے وہ ایم ایم اے کا سہارا ڈھوند رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک دونوں مذہبی رہنما مرکزی و صوبائی حکومتوں کے مزے لیتے رہے اور حکومتوں کے آخری ایام میں اسلام کی یاد ستانے لگی ہے ، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک اسلام کو بالائے طاق رکھا گیا اب اقتدار کیلئے اسلام کے نام پر اسلام آباد کی تگ و دو شروع ہونے جا رہی ہے، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ آئندہ الیکشن کے حوالے سے اپنی تیاریوں کا آغاز کر دیں اور آنے والی حکومت ایک بار پھر اے این پی کی ہوگی۔

Your Thoughts and Comments