مالی سال 2018-19 ء کا وفاقی بجٹ مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل 27 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کریں گے، تیاری شروع

سال سے ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ چار ماہ کا بجٹ پیش کیا جائے‘ سندھ حکومت بھی پورا بجٹ پیش کررہی ہے‘ دسمبر 2017 ء تک گردشی قرضوں کا حجم 514 ارب روپے تھا اس میںسے 73 ارب روپے ادا کئے جاچکے ہیں‘ بجٹ کے اعداد و شمار کو حتمی شکل وزیراعظم کی صدارت میں این ای سی کے آج ہونے والے اجلاس میں دے دی جائے گی حکومت کے آئینی طورپر پانچ مشیر ہیں جن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فلور پر آئینی طور پر بات کرنے کا حق حاصل ہے اور اٹارنی جنرل آف پاکستان بھی اس میں شامل ہیں، وزارت خزانہ

پیر اپریل 20:17

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء) مالی سال 2018-19 ء کا وفاقی بجٹ مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل 27 اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کریں گے‘ اس حوالے سے مشیر خزانہ نے تیاری شروع کردی ہے‘ پاکستان میں گزشتہ ستر سال سے ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ چار ماہ کا بجٹ پیش کیا جائے‘ سندھ حکومت بھی پورا بجٹ پیش کررہی ہے‘ دسمبر 2017 ء تک گردشی قرضوں کا حجم 514 ارب روپے تھا اس میںسے 73 ارب روپے ادا کئے جاچکے ہیں‘ بجٹ کے اعداد و شمار کو حتمی شکل وزیراعظم کی صدارت میں این ای سی کے آج ہونے والے اجلاس میں دے دی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے حکام نے آن لائن کو بتایا کہ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وفاقی حکومت کے آئینی طورپر پانچ مشیر ہیں جن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فلور پر آئینی طور پر بات کرنے کا حق حاصل ہے اور اٹارنی جنرل آف پاکستان بھی اس میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2018-19 ء کا وفاقی بجٹ مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل 27 اپریل اسمبلی کو پیش کریں گے اس ہوالے سے مشیر خزانہ نے تیاری شروع کردی ہے۔

وزارت خزانہ حکام نے آن لائن کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے آئینی طور پر پانچ مشیر ہیں جن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فلور پر آئینی طور پر بات کرنے کا حق حاصل ہے ان میں مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل‘ عرفان صدیقی ‘ امیر مقام‘ جام معشوق علی اور سردار مہتاب عباسی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار ماہ کا بجٹ نہیں بن سکتا نہ ہی پاکستان میں گزشتہ ستر سال سے ایسی کوئی مثال موجود ہے‘ سندھ حکومت بھی پورا بجٹ پیش کررہی ہے اور وفاقی حکومت بھی مکمل سال کا بجٹ پیش کرے گی کیونکہ آمدن اور اخراجات کے تخمینے سال کیلئے ہوتے ہیں چار ماہ کیلئے نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف ہمیشہ سال کیلئے رکھا جاتا ہے ۔ آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ہدف 440 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے ۔ وزارت خزانہ کے حکام نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی‘ پنشن‘ دفاع ‘ قرضوںکی ادائیگی اور بڑے منصوبوبں کیلئے فنڈز اور سبسڈی کا تخمینہ سال بھر کا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پی ایس ڈی پی کیئے 750 ارب روپے رکھے گئے جبکہ آئندہ سال کیلئے 800 ارب روپے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی اگر چہ کم ہے آنے والی حکومت اس کو بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں کررہے پہلے سے جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی جب مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو بیت المال کا فنڈ دو ارب روپے تھا جس کو بڑھا کر چھ ارب روپے کیا اور بجٹ آٹھ سو ارب روپے کردین گے حکام نے گردشی قرضے کے حوالے سے بتایا کہ دسمبر 2017 ء تک گردشی قرضہ 514 ارب روپے تھا حکومت 73 ارب روپے پہلے 53 اور پھر 20 ارب روپے ادا کئے گئے اسی طرح 73 ارب روپے ادا کئے جاچکے ہیں جبکہ انے والے چند دنوں میں مزید 100 ارب روپے ادا کریں گے جیسے ہی پاور ڈویژن سمری وزیراعظم کو بھیجے گی جس کو منظوری کے بعد 100 ارب روپے جاری کردیئے جائیں گے جس سے ملک میں لوڈ شیڈنگ میں نمایں کمی ہوگی۔

حکام نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کے حل کیلئے مشیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کو خصوصی کو خصوصی ہدایات دی ہیں جس کے بعد مشیر خزانہ نے ایس ایس جی پی ایل اور کراچی الیکٹرک کے درمیان پندرہ دن میں معاملات حل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایس ایس جی پی ایل کے الیکٹرک کو پندرہ دن پہلے سکیمیں فراہم کرے گی۔ اب کراچی میں بجلی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے بجلی کی وجہ سے پانی کا مسئلہ بھی بن گیا تھا پندرہ دن کے اندر اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کردیا جائے گا حکام نے کہا کہ وزیراعظم کی صدارت میں ایس ای سی کے ہونے والے اجلاس میں بجٹ کے اعداد و شمار کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Your Thoughts and Comments