میڈیا پر جس طرح پابندیاں چیف جسٹس نے لگائی ایسی ڈکٹیٹر بھی نہیں لگاتے ، نواز شریف

عدلیہ تو ان پابندیوں سے معاشرے کو آزاد کرواتی ہیں‘ ثاقب نثار صاحب آپ ملک کو کس طرف لے کر جارہے ہیں ‘ وہ دن دور نہیں یہ قوم آپ سے حساب لے گی مجھے پتہ ہے کہ یہ باتیں نہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جائیں گی اور نہ ہی پرنٹ میڈیا میں مگر میں اس قوم کے لئے بولتا رہوں گا، سابق وزیراعظم

منگل اپریل 19:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل اپریل ء) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح کی میڈیا پر پابندیاں موجودہ چیف جسٹس نے لگائی ہیں اس طرح کی پابندیاں تو ڈکٹیٹر بھی نہیں لگاتے‘ عدلیہ تو ان پابندیوں سے معاشرے کو آزاد کرواتی ہیں‘ ثاقب نثار صاحب آپ ملک کو کس طرف لے کر جارہے ہیں ‘ وہ دن دور نہیں یہ قوم آپ سے حساب لے گی مجھے پتہ ہے کہ یہ باتیں نہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جائیں گی اور نہ ہی پرنٹ میڈیا میں مگر میں اس قوم کے لئے بولتا رہوں گا۔

وقت تو ووٹ کو عزت دو کا بانیہ گھر گھر پہنچ گیا آپ کتنا روکو گے یہ معاملہ رکے گا نہیںیہ اکیسویں صدیق ہے ہم پتھر کے دور میں نہیں رہ رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیب ایک ڈکتیٹر کا دیا ہوا تحفہ ہے مجھ سے غلط ہوگئی کہ اقتدار میں آکر اس کو ختم نہیں کر سکا۔

نیب اگر اس طرح ایکشن لیتا ہے تو وہ یہ بھی لے کہ میں نے موجودہ چیف جسٹس کو سیکرٹری قانون اس طرح بنایا تھا ‘ سول سوسائٹی اور باشعور لوگ چاہتے ہیں کہ ہماری عدلیہ کے فرسودہ نظام میں اصلاحات لائی جایں اللہ نے موقع دیا تو اقتدار میں ملا تو جنگی بنیادوں پر عدلیہ میں اصلاحات لائیں گے۔ انہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو مرضی کہہ دیں اور یہ سوچیں کہ اس کا جواب نہیں آئے گا ‘ ضرور جواب آئے گا ۔

آپ اپنے کام سے کام رکھیں جس کا کام اسی کو ساجھے ‘ آپ لوئر کورٹس کی طرف توجہ دیں بازاروں‘ سکولوں اور اداروں کا دورہ نہ کریں لوئر کورٹس میں لاکھوں کے ہساب سے کیسز زیر التواء ہیں ان کو نمٹائیں آپ کے پاس اگر کوئی شکایت لے کر آتا ہے تو صرور اسے سنیں لیکنیہ نہ کریں کہ سایست دانوں کی تضحیک کریں۔ آپ نے کہا کہ لاہور اورنج ٹرین بند کرواسکتا ہوں آپ لووں کو کیوں سفری سہولیات سے محروم کرنا چاہتے ہیں میرے خلاف جو ہورہا ہے ایسا کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دوں گا۔ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہ کر سارے کام کئے جائیں کسی کو اس سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قوم آپ سے یہ حساب لے کر رہے گی۔ آپ 22 کروڑ عوام کی تضحیک کررہے ہیں میں ملکج کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہوں۔

Your Thoughts and Comments