موجودہ حکومت نے صحت تک مفت اور آسان رسائی فراہم کرنے کے لئے بے مثال وزیراعظم قومی صحت پروگرام متعارف کرایا ہے

جو کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا ویژن ہے ، پہلی مرتبہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے غریب ترین افرادکے لئے قومی صحت پروگرام کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور یہ فلاحی ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے ، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے،آگاہی مہم میں میڈیا کا کردار اہم ہے،دیہی علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی کا ہونا بہت ضروری ہے،موبائل فون کے ذریعے بھی آگاہی مہم مؤثر انداز میں چلائی جا سکتی ہے،پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،ویژن 2025 کے اہداف بھی پائیدار ترقی سے منسلک ہیں،پاکستان پہلا ملک ہے جہاں پارلیمنٹ میں ایس ڈی جی سیکرٹیریٹ موجود ہے،ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پارلیمانی ٹاسک فورس بنائی گئی ہے،گذشتہ3سال میں پارلیمانی ٹاسک فورس نے کئی اقدامات اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا،پارلیمنٹ کے کردار کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے،بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں،ارکان پارلیمنٹ کو پولیو اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کردار دیا گیا وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کا ہیومین ڈویلپمنٹ فائونڈیشن اور سن سیکرٹریٹ کے اشتراک سے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے "امید سے آگی" کے عنوان سے آگاہی مہم سے خطاب

منگل اپریل 23:22

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل اپریل ء) وزیر مملکت اطلاعات،نشریات ،قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے صحت تک مفت اور آسان رسائی فراہم کرنے کے لئے بے مثال وزیراعظم قومی صحت پروگرام متعارف کرایا ہے جو کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا ویژن ہے ، پہلی مرتبہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے غریب ترین افرادکے لئے قومی صحت پروگرام کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے ،ماں اور بچے کی صحت سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے،آگاہی مہم میں میڈیا کا کردار اہم ہے،دیہی علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی کا ہونا بہت ضروری ہے،موبائل فون کے ذریعے بھی آگاہی مہم مؤثر انداز میں چلائی جا سکتی ہے،پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،ویژن 2025 کے اہداف بھی پائیدار ترقی سے منسلک ہیں،پاکستان پہلا ملک ہے جہاں پارلیمنٹ میں ایس ڈی جی سیکرٹیریٹ موجود ہے،ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پارلیمانی ٹاسک فورس بنائی گئی ہے،گذشتہ3سال میں پارلیمانی ٹاسک فورس نے کئی اقدامات اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا،پارلیمنٹ کے کردار کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے،بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں،ارکان پارلیمنٹ کو پولیو اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کردار دیا گیا۔

(جاری ہے)

وہ منگل کو یہاں ہیومین ڈویلپمنٹ فائونڈیشن (ایچ ڈی ایف) اور سن سیکرٹریٹ کے اشتراک سے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے "امید سے آگی" کے عنوان سے آگاہی مہم سے خطاب کر رہیں تھیں۔وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے ماں اور بچے کی صحت سے متعلق امید سے آگے مہم شروع کرنے پر ایچ ڈی ایف اور سن سیکرٹریٹ کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ غذائی قلت ایک ایسا موضوع ہے جس سے بہتر انداز میں نمٹنے کیلئے اصل ڈیٹا ہونا ضروری ہے،ڈیٹا کی بنیاد پر پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں ،معلومات اور ڈیٹا درست ہونے سے بچوں کی صحت کے لئے بہتر اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک طویل مدت کے بعد مردم شماری ہوئی ہے ،اس مردم شماری کے بعد ڈیٹا جمع ہورہا ہے جو آئندہ کے اہداف میں معاونت فراہم کریگا۔انہوں نے کہا کہ ملینئیم ڈویلپمنٹ گولز( ایم ڈی جیز )آنے کے بعد ملک میں کچھ ڈیٹا بھی جمع ہوا، ایم ڈی جیز پر عمل درآمد میں کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ فریم ورک بھی ہے جس کے بعد پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز ) پر پاکستان دستخط کر کے حصہ بنا، ایس ڈی جیز کے بہت سے اہداف ہمارے ویژن 2025میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جہاں پر پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)کا سیکرٹریٹ موجود اور مکمل فعال ہے ،ایس ڈی جیز ٹاسک فورس بھی بنائی گئی ہے جس میں پارلیمنٹ کے اندر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے،صوبائی فورسز بھی اپنا کردار ادا کررہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی پوری دنیا میں اہمیت کی حامل ہے،خوراک کی کمی اہم موضوع ہے اور اس پر توجہ بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے تحقیق انتہائی ضروری ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے زریعے اس پر کام جاری ہے۔وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کردار اس حوالے سے بہت اہم ہے،پارلیمنٹ کے کردار کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم کا مقامی سطح پر ہونا اہم ہے اور اس سے نتائج نظر آنے لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویڑن اور ریڈیو پاکستان پر ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کی جائے گی، پیمر کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کو دیئے گئے لائسنس میں شامل ہے کہ تمام ٹی وی چینلز 10فیصد مواد سماجی پیغامات اور مہم کے لئے مختص کریں۔انہوں نے کہا کہ بنیادی صحت کے یونٹ کی کارکردگی کو نجی شعبے کے اشتراک سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ڈی ایف سعید الحسن نے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے امید سے آگے مہم ،غذائی قلت ،نومولود بچوں کی صحت کے حوالے سے احتیاط اور بروقت علاج کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ایچ ڈی ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین خالد ریاض ، سی ای او ایچ ڈی ایف اظہر سلیم ، سن سیکرٹریٹ کے چیف نیوٹریشن اسلم شاہین نے خطاب کیا۔

Your Thoughts and Comments