خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار ،ْ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ،ْ وزیر خارجہ کے عہدے سے بھی محروم

خواجہ آصف 2013ء کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے تھے ،ْ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلے کی کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم عدالت کو منتخب نمائندوں کو نااہل کرنے کیلئے عدالتی اختیارات کا استعمال کرنا اچھا نہیں لگتا، سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر ہی حل کرنے چاہئیں ،ْ فیصلے کامتن لیگی رہنما کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر نے کااعلان الیکشن کمیشن میں بھی ڈکلیئرڈ کیا ،ْجس اقامے کی تصویر دکھائی جارہی ہے ،ْ خود الیکشن کمیشن کو دیا ہے ،ْ خواجہ آصف یہ وہی خواجہ آصف ہے جس نے میرے قائد عمران خان کی شان میں گستاخی کی تھی ،ْ عثمان ڈار

جمعرات اپریل 23:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات اپریل ء)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو منتخب نمائندوں کو نااہل کرنے کیلئے عدالتی اختیارات کا استعمال کرنا اچھا نہیں لگتا، سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر ہی حل کرنے چاہئیں۔

۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک روز قبل جمعرات کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا ۔

(جاری ہے)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے فیصلہ پڑھ کر سنایا اس موقع پر عثمان ڈار عدالت میں پیش ہوئے ،ْ ان کے ہمراہ دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے تاہم خواجہ آصف سمیت مسلم لیگ (ن)کا کوئی بھی رہنما عدالت میں موجود نہیں تھا۔

35 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہوگئی ،ْ فیصلے کے بعد خواجہ آصف وزیر خارجہ کے عہدے سے بھی محروم ہوگئے ۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف صادق اور امین نہیں رہے، فیصلے کے مطابق خواجہ آصف 2013ء کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے تھے ۔

عدالت عالیہ نے فیصلے کی مصدقہ کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم بھی دیاجس کے بعد خواجہ آصف کو قومی اسمبلی نشست سے ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائیگا۔عدالت نے معلومات کیلئے فیصلے کی کاپی سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق کو بھی بھجوانے کی ہدایت کی ہے ۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے آخر میں کہا گیا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کسی بھی عدالت کیلئے خوشی کا موقع نہیں ہوتا جب کوئی منتخب نمائندہ نااہل ہو۔

جب سیاسی قوتیں سیاسی سطح پر مسئلہ حل کرنے کی بجائے عدالت کا رخ کرتی ہیں اس کے اثرات اداروں پر بھی ہوتے ہیں اور عوام پر بھی۔فیصلے میں جج صاحبان نے کہا کہ ہم نے بھاری دل کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے نہ صرف اس لیے کہ ایک منجھا ہوا سیاستدان نااہل ہوا ہے بلکہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ ووٹروں کی امیدوں اور خوابوں کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔فیصلے میں کہاگیا کہ پارلیمنٹ فیڈریشن کے اتحاد کی علامت ہے اور عزت و تکریم کی حقدار ہے، عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد اراکین کے کردار پر منحصر ہے ،ْدرخواست گزار کی سیاسی جماعت عدالت آنے کی بجائے پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھاتی تو مناسب تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف نے نیشنل بنک آف دبئی کا بنک اکائونٹ بھی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا ،ْخواجہ آصف کی جانب سے 2013 کے کاغذات نامزدگی کی بجائے 2015 میں پہلی بار یہ اکائونٹ ظاہر کیا، مختلف اوقات میں خواجہ آصف نے اپنی آجر کمپنی کے ساتھ تین معاہدے کیے جن کے تحت خواجہ آصف کو اقامہ دیا گیا تھا، دستاویز کے مطابق کمپنی کے کل ملازمین کی تعداد 1250 تھی، خواجہ آصف کا نام مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پر سیریل نمبر 303 پر ہے، ان سے اوپر 302 اور نیچے سیریل پر مستری اور مزدور شامل ہیں۔

فیصلے میں کہاگیا کہ خواجہ آصف نے 2013 میں ہونے والے انتخابات میں کاغذات نامزدگی میں دبئی میں ملازمت کو جان بوجھ کر چھپایا تھا ،ْفیصلے کے ساتھ خواجہ آصف کے دبئی کی تین مختلف کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی کاپیاں بھی لگائی گئی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کی جانب سے جان بوجھ کر نوکری اور تنخواہ ظاہر نہیں کی گئی ۔فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ خواجہ آصف وکیل بھی ہیں اس لیے اٴْنھیں بخوبی علم ہوگا کہ اٴْنھوں نے کون سے حقائق کاغذات نامزدگی میں چھپائے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف نے کافی عرصے سے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا ۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا خواجہ آصف کے وکیل کی طرف سے یہ دلائل دینا کہ ان کے مؤکل کا اقامہ ملازمت کیلئے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کیلئے ہے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے معاملے پارلیمنٹ کی بجائے عدالتوں میں ہوں گے تو پھر عدالتیں قانون کے مطابق ہی فیصلہ دیں گی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے یہ دعوے ثابت ہوئے ہیں کہ خواجہ آصف اس وقت ایک غیرملکی کمپنی میں کل وقتی ملازم تھے جب ان کے پاس پاکستان کی کابینہ میں اہم عہدے تھے چنانچے اس سے ’مفادات کا ٹکراؤ‘ واضح ہے اور صرف اسی بنا پر ہی انھیں نااہل کیا جا سکتا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے ان اقدامات سے خواجہ آصف نے اس حلف سے روگردانی کی جو انھوں نے بطور رکنِ اسمبلی اور وزیر اٹھایا تھا۔

عدالت نے رجسٹرار ہائیکورٹ کو حکم دیا کہ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کی جائے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر نے کااعلان کیا ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق خواجہ آصف نے مسکراتے ہوئے فیصلہ پر کہا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے انہوںنے کہا کہ یہ میرا آئینی اور قانونی حق ہے جو استعمال کرونگا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اس میں کسی نے کوئی کمال نہیں کیا یا تو انہوں نے اقاما چھپایا تھا، اگر چھپائی ہوئی چیز باہر آتی تو کمال ہوتا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ وہ جب سے سیاست میں آئے انہوں نے تب سے اپنے اکاؤنٹس اور اقاما ظاہر کیا ہوا تھا جو انہوں نے الیکشن کمیشن میں بھی ڈکلیئرڈ کیا، جس اقامے کی تصویر دکھائی جارہی ہے وہ خود الیکشن کمیشن کو دیا ہے۔

دوسری جانب عدالتی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عثمان ڈار نے کہاکہ وہ پورے پاکستان اور اپنے شہر سیالکوٹ کے عوام کے سامنے سرخ رو ہوئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں سیالکوٹ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ انہیں 32 سال بعد خواجہ آصف سے نجات ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ان تمام افراد کا شکر ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے جذبہ دیا اور آج کی کامیابی کا سارا سہرا عمران خان کو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ ساتھ نہیں ہوتے تو میں اس کیس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا پاتا۔

عثمان ڈارنے کہاکہ میں سیالکوٹ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ انہیں 32 سال بعد خواجہ آصف سے نجات ملی ہے۔عثمان ڈار نے کہا کہ فیصلے پر عدلیہ کو سلام پیش کرتا ہوں اور میں نے خواجہ آصف کو کہا تھا کہ عثمان ڈار اس کیس میں نہ ڈرے گا اور نہ ہی جھکے گا ۔انہوںنے کہاکہ یہ وہی خواجہ آصف ہے جنہوں نے پارلیمنٹ میں میرے لیڈر عمران خان کے خلاف توہین آمیز جملے بولے، اسی دن فیصلہ کرلیا تھا کہ خواجہ آصف کو ہمیشہ کیلئے پارلیمنٹ سے اٹھا کر باہر پھینک دوں گا ،ْ خواجہ آصف اور نوازشریف قومی مجرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور خواجہ آصف کا کاروبار کرپشن ہیں اور یہ دونوں غدار ہیں اور میں خواجہ آصف کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ شوکت خانم ہسپتال کے باہر پھل کا ٹھیلا لگائیں انہیں حلال کی کمائی ملے گی۔یاد رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے 11 اگست 2017 کو خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینے کیلئے دائر کی گئی درخواست دائر کی گئی تھی۔

پی ٹی آئی رہنما کی درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابات سے قبل ظاہر نہیں کیں اس لیے وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے مستحق نہیں۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف نے اپنے نامزدگی فارم میں اپنے تمام اثاثے ظاہر نہیں کیے اور غلط بیانی کی ،ْخواجہ آصف صادق اور امین نہیں رہے اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر پہلے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی تاہم بعد میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طرف سے معذرت کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا۔جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں نئے بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے دلائل مکمل ہونے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ مزید کوئی دستاویز پیش کرنی ہے تو تحریری درخواست کے ساتھ جمع کرائی جاسکتی ہے جس کے بعد خواجہ آصف نے دبئی کی کمپنی کا خط پیش کیا۔خط میں خواجہ آصف کی ملازمت کی تصدیق کی گئی اور بتایا گیا کہ کمپنی کی طرف سے ان پر دبئی میں موجودگی کی شرط عائد نہیں کی گئی ،ْ جب بھی ضرورت ہو تو فون پر خواجہ آصف سے قانونی رائے حاصل کر لی جاتی ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں سیالکوٹ کے حلقہ این اے 110 میں عثمان ڈار کو خواجہ آصف کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انہوں نے اپنی پٹیشن میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ کا 28 جولائی والا فیصلہ نقل کیا جس میں انہیں اقامہ رکھنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔

Your Thoughts and Comments