وفاقی حکومت کی بی آئی ایس پی کے مختص فنڈز میں اضافہ کر کے 124.7 ارب کرنے کی تجویز

ہفتہ اپریل 00:05

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ اپریل ء) وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مختص فنڈز میں اضافہ کر کے 124.7 ارب کر دیئے ہیں ،دسمبر 2017تک اس پروگرام کے تحت استفادہ کرنے والے خاندانوں کی تعداد 56لاکھ کی گئی ہے،حکومت نے غریب اور انتہائی غریب افراد خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو غربت سے باہر نکالنے اور ان کی معاشی اور سماجی ترقی کی غرض سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے گرانٹ حاصل کرنے والوں کے لیے تقریباً 10 ارب روپے سے نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کا آغاز کر دیا ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے یک مشت 50 ہزار روپے کی مالی گرانٹ دی جائے گی۔

جمعہ کو مالی سال 2018-19کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑاسیفٹی نیٹ پروگرام ہے۔

(جاری ہے)

جب جون 2013 میں ہماری حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس پروگرام کے ذریعے 37 لاکھ خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے 40 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ اس پروگرام کے تحت 2013 میں سہ ماہی بنیاد پر محض 3 ہزار روپے وظیفہ مقرر تھا۔

ہم نے اپنے دور حکومت میں اس فنڈ کے لیے گرانٹ میں مالی سال 2017-18 کے دوران نہ صرف 113 ارب روپے تک اضافہ کیا بلکہ فی خاندان سہ ماہی وظیفہ 3,000 روپے سے بڑھا کر 4,834 روپے کر دیا۔ اس حوالے سے استفادہ کرنے والے خاندانوںکی تعداد بھی دسمبر 2017 تک بڑھا کر 56 لاکھ کر دی گئی ہے جبکہ اس پروگرام کے لیے مختص فنڈز کو سال 2018-19 میں مزید 124.7 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

حکومت نے غریب اور انتہائی غریب افراد خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کو غربت سے باہر نکالنے اور ان کی معاشی اور سماجی ترقی کی غرض سے BISP سے گرانٹ حاصل کرنے والوں کے لیے تقریباً 10 ارب روپے سے زائد رقم سے نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے یک مشت 50 ہزار روپے کی مالی گرانٹ دی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments