کراچی ۔ پشاور موٹر وے کے سکھر ۔ ملتان سیکشن کی تعمیر کے لئے تعمیراتی مٹیریل پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی سیکشن 148 کا نفاذ نہ کئے جانے کی تجویز

ہفتہ اپریل 00:05

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ اپریل ء) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سی پیک کے تحت بننے والے کراچی ۔ پشاور موٹر وے کے سکھر ۔ ملتان سیکشن کی تعمیر کے لئے تعمیراتی مٹیریل اور اشیاء کی درآمد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی سیکشن 148 کا نفاذ نہ کئے جانے کی تجویز ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے فنانس بل 2018ء میں تجویز دی گئی ہے کہ سی پیک کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے کراچی ۔

پشاور موٹر وے منصوبے کے سکھر ۔

(جاری ہے)

ملتان سیکشن پر چائنہ اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن کو 10 ارب 89 کروڑ 80 لاکھ روپے تک کے تعمیراتی مٹیریل اور اشیاء کی درآمد پر انکم ٹیکس آرڈیننس کا نفاذ نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ وزارت خارجہ امور کی 35 آرمرڈ و سیکورٹی وہیکلز کی درآمد پر بھی یہ سیکشن 148 لاگو نہیں ہوگا تاہم اس کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ گاڑیاں بیرونی مہمانوں کی سیکورٹی کے لئے استعمال ہوں گی اور یہ سینٹرل پول آف کارز کیبنٹ ڈویژن میں پارک ہوں گی۔ اس کے علاوہ سی پیک کے تحت ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے لئے آلات کی درآمد پر بھی سیکشن 148 کا نفاذ نہیں ہوگا۔

Your Thoughts and Comments