قرآنی آیات حذف کرنے کے مطالبے پر مسلمانوں کا شدید ردعمل

جامعہ الازہر کی جانب سے بھی فرانسیسی شخصیات کے قرآنی آیات حذف کرنے کے مطالبے کی مذمت ، اگر دوسروں کو ان آیات کی سمجھ نہیں آتی ہے تو اسلام اس کا ہرگز بھی ذمے دار نہیں ہے،نائب سربراہ جامعہ الازھر

پیر اپریل 12:24

قاہرہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء)مصر کی قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر نے فرانس کی متعدد سرکردہ شخصیات کی جانب سے قتال سے متعلق بعض قرآنی آیات کو حذف کرنے کے مطالبے کی مذمت کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فرانس کے سابق صدر نیکولا سارکوزی اور سابق وزیراعظم مینول والس سمیت متعدد شخصیات کا فرانسیسی روزنامے میں ایک خط شائع ہوا ہے اور اس میں انھوں نے مذموم مطالبہ کیا کہ قرآن مجید کی جن آیات میں یہود ، عیسائیوں اور بے دین ملحدوں کے قتل کا کہا گیا ہے،انھیں حذف کردیا جائے۔

اس کے ردعمل میں جامعہ الازہر کے نائب نے ایک تقریر میں کہا کہ قرآن کسی کے ایسے ہی ناحق قتل کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ وہ ظالموں اور جابروں کے خلاف دفاعی لڑائی کا حکم دیتا ہے۔

(جاری ہے)

نائب شیخ الازہر نے وقفے وقفے سے اس طرح کے بے تکے اور لایعنی مطالبات پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن میں ایسی آیات نہیں ہیں جن میں کسی فردکو اس کے کسی جرم کی پاداش کے بغیر قتل کا حکم دیا گیا ہو بلکہ قرآن میں کسی اور شخص کو ناحق قتل کرنے والے اور ہتھیار اٹھانے والے حربی کے قتل کا حکم دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر دوسروں کو ان آیات کی سمجھ نہیں آتی ہے تو اسلام اس کا ہرگز بھی ذمے دار نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قتال سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں دفاعی لڑائی کا ذکر ہے کہ جب کسی پر حملہ کیا جائے تو وہ کیسے اپنا دفاع کرے گا ،نہ کہ جارحانہ لڑائی کی ترغیب دی گئی ہے۔مصر کے دارالافتاء سے وابستہ اسلام فوبیا پر نظر رکھنے والی رصدگاہ نے بھی فرانسیسی شخصیات کے اس مطالبے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ گاہے گاہے یورپ میں بعض لوگوں کی جانب سے اس طرح کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں ،یہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کا موجب بنتے ہیں اور فرانسیسی عوام کے درمیان بھی ایک نیا تنازع پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

Your Thoughts and Comments