کوئٹہ،بلوچستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں،لشکری رئیسانی

بے گناہ افراد کے نامعلوم قاتلوں کو گرفتار کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، رہنما بی این پی بااختیار لوگ بے حسی کے بدترین مرض میں مبتلا ، سرزمین پر بسنے والے لوگ کا احساس نہیں جو بجلی ،پانی، صحت سمیت دیگر ضروریات زندگی سے محروم ریاست سے زندہ رہنے کے حق کا مطالبہ کررہے ہیں، وویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رہنما جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ سے اظہار یکجہتی کے موقع پر خطاب

منگل مئی 00:01

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں نامعلوم قاتلوں کو گرفتار کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے عدالتوں میںان کاٹرائل اور عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بلوچستان میں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھی وویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رہنما جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ سے اظہار یکجہتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی اراکین شکیلہ نوید اور سابق وفاقی وزیر میر ہمایون عزیز کرد نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

ہڑتال پر بیٹھے افراد سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ آج ملک کے طول وعرض میں لوگ اپنے زندہ رہنے کے آئینی حق کیلئے سراپا احتجاج ہیں اور بلوچستان کے لوگ زندہ رہنے کے آئینی حق کیلئے پچھلی کئی دہائیوں سے احتجاج کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کررہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سمیت کہیں بھی زندہ رہنے کے حق کیلئے جاری احتجاج اس آئین جس کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے بنایا اس سے ایک انچ کے خلاف نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بااختیار لوگ بے حسی کے بدترین مرض میں مبتلا ہیں ان کو یہ احساس تک نہیں ہورہا کہ اس سرزمین پر بسنے والے لوگ پہلے ہی بجلی ،پانی، صحت سمیت سمیت دیگر ضروریات زندگی سے محروم ہیں اورآج ریاست سے اپنے زندہ رہنے کے حق کا مطالبہ کررہے ہیںاو ر وہ ادارے جن کیلئے ہر سال بجٹ میں کئی ہزار روپے رکھے جاتے ہیں وہ پابند ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو انکی زندگیوں کی ضمانت دے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج یہاں احتجاج پر بیٹھے لوگ صوبے میں آباد مختلف مذاہب ، طبقات رنگ و نسل قوموں ، فرقوں کو تحفظ اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ریاست ان مطالبات کو سنجیدگی سے لے کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر ریاست کے پاس افسوس کے سوائ کچھ ہاتھ نہ آئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ شب جان محمد روڈ پر فائرنگ کے واقعہ میں تین افراد کو قتل دو کو زخمی کیا گیا یہ کس کی بد عمالی جسے بااختار لوگ چھپارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر واقعہ کے بعد ریاستی ادارے حرکت میں آکر دعویٰ کرتے ہیں کہ نامعلوم قاتلوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور انہیں گمنام قاتلوں کو بعد میں انکا?نٹر کرکے قتل کردیا جاتا ہے جو مزید ناقابل برداشت ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ ریاستی ادارے پکڑے گئے ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ان پر مقدمات چلائیں اورباقاعدہ شفاف ٹرائل کے ذریعے پتہ چلائیں کہ اصل حقائق کیا ہیں اور ان حقائق سے صوبے کے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 سالوں سے آج تک کوئی قاتل پکڑا نہیں گیا جو پکڑے گئے ہیں ان کا نام خوفناک بناکر مقابلوں میں قتل کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اس وقت جب ہم یہاں احتجاج پر بیٹھے ہیں ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ اس سرزمین کے مالک ہونے کے ناطے یہاں کے لوگوں کو ریاست تحفظ فراہم کرئے۔ اور جو لوگ دھرنے پر بیٹھے ہیں انکے درمیان تفرقہ پیدا کرکے جعلی مقدمات کے اندراج کی بجائے ریاست ان نامعلوم قاتلوں اورصوبے کے مختلف علاقوں سے برآمد ہونے وا لی مسخ شدہ لاشوں کے ورثاء کو آئین کے مطابق انصاف فراہم کرے۔

Your Thoughts and Comments