مزدوروں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 30سے 40ہزار کے درمیان روپے مقرر کی جائے

پی آئی اے اور اسٹیل ملز سمیت تمام قومی اداروں کی نجکاری بند کی جائے ،حکومتی خصوصی ہیلتھ اسکیم متعارف کرائی جائے ، اگر قومی اداروں کی نجکاری کی گئی اور مزدوروں کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ، سابق چیئرمین سینٹ اور دیگرکا کراچی پریس کلب میں جلسہ سے خطاب

منگل مئی 20:46

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء)مختلف مزدور تنظیموںاور ٹریڈ یونینز کے رہنمائوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 30سے 40ہزار کے درمیان روپے مقرر کی جائے ، تمام نجی فیکٹریوں ، اداروں اور ملوں میں سرکاری طرز کا پنشن اور مراعاتی نظام متعارف کرایا جائے ،کم از کم پنشن 20ہزار روپے مقرر کی جائے ،پی آئی اے اور اسٹیل ملز سمیت تمام قومی اداروں کی نجکاری بند کی جائے ،حکومتی خصوصی ہیلتھ اسکیم متعارف کرائی جائے ،پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مزدوروں کی نشستیں مخصوص کی جائیں، لیبر قوانین میں اصلاحات کی جائیں،ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے،ٹریڈ یونین کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے اور اگر قومی اداروں کی نجکاری کی گئی اور مزدوروں کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارانھوں نے منگل 132 کوویں یوم مئی کے موقع پر کراچی پریس کلب میںٹریڈ یونین، سول سوسائٹی اور صحافی تنظیموں کے زیر اہتمام جلسہ عام اور شہر بھر میں ریلیوں اور مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کلب پر جلسہ عام سے سابق چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی ، پائلر کے رہنما کرامت علی، لیا قت علی ساہی کراچی پریس کلب کے صدر احمد خان ملک،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور،مزدور رہنما حاجی گل آفریدی و دیگر نے خطاب کیا۔

سابق چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ اقتصادی نظام مزدوروں کا استحصال کیا جارہا ہے ، ضیا ء دور میں طلباء تنظیموں پر پابندی لگا کر جمہوری قوتوں کو کمزور کیا گیا،سیاسی جماعتیں اپنی سوچ تبدیل کریں، جمہوریت کے استحکام کے لیے جدو جہد کریں ،اس کے بغیر محنت کشوں کے مسائل حل نہیں ہونگے ۔ انھوں نے کہا کہ آمریت کے خلاف جدو جہد میں مزدوروں اور ٹریڈ یونین نے ہمیشہ جمہوری قوتوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے ، ٹریڈ یونین کو آزادی ہونی چاہیے ، نجی اداروں میں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ غیر آئینی ہے ،اسے ختم کیا جائے ۔

یوم مئی پر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ،ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی زیر اہتمام ریگل چوک صدر سے کراچی پریس کلب تک ریلی نکالی گئی ۔اس کے علاوہ ریلوے ورکرز یونین ،ورکرز یونین پورٹ قاسم،کراچی ہاربر اینڈ ڈاک ورکرز یونین ،کے ڈی ایل بی ورکرز یونین،پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسو سی ایشن پاک ورکرز یونین و دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

ان ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنما ناصر منصور، گل رحمن، رفیق بلوچ،منظور احمد رضی، زہرا خان،رفیق بلوچ،فرحت پروین، رائو نسیم،غنی زمان اعوان،ریاض عباسی ، بزرگ مزدور رہنما عثمان بلوچ بشیر احمد محمودانی، سعیدہ خاتون، ،عبدالعزیزخان ، مشتاق علی شان ، عبدالرحمن آفریدی ، اسرار احمد ، شاہ جی رحمن ، محمد صدیق ، سائرہ فیروز ،شبنم اعظم اور ویگر مزدور رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے شکاگو کی قربانیوں کے 132سال گزرنے کے باوجود سرمایہ داروں نے اپنی مزدور دشمن روش تبدیل نہیں کی، محنت کش فیکٹریوں،کارخانوں میں مزدور بدترین صورتحال سے دوچار ہیں ، تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے ایجنڈے میں مزدور طبقہ مکمل طور پر غائب ہے اور ان کی یاد ان جماعتوں کو اسی وقت آتی ہے جب مزدور طبقے کو تحریکوں اور جلسوں کا ایندھن بنانا ہوتا ہے ۔

مزدور رہنمائوں نے کہا کہ دنیا بھرکے محنت کش عوام ایک نئی مزاحمتی تحریک کو جنم دے رہے ہیں پاکستان کے محنت کش عہد کرتے ہیں کہ وہ ملک سے سامراجی تسلط اور سرمایہ داری و جاگیر داری کو ختم کر کے محنت کشوں کا راج قائم کرنے کی جدوجہد کو منظم کریں گے۔ مزدور رہنمائوں نے کہا کہ حکمران طبقات نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ محنت کش طبقے کے اولین دشمن ہیں اور یہ مزدور دشمنی ان کے خمیر میں شامل ہے ۔

ملک میں منتخب جمہوری حکومت ہو یا آمریت، مزدور طبقہ قانون وآئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ،کام کی جگہوں پر تنظیم سازی، کم از کم تنخواہ ، اوقات کار، ہیلتھ وسیفٹی اور اجرتوں سے لیکر سماجی تحفظ جیسے بنیادی و تسلیم شدہ حقوق کو پامال کیا جا تا ہے اور ان حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کو دہشت گردی کے مترداف بنا دیا گیا ہے ۔

فیکٹریاں ،کارخانے ہوں یا کھیت کھلیان یا گھروں میں منڈی کے لیے پیداوار کرنے والے گھرمزدور خصوصا عورتیں ہوں ،ان کی زندگیاں جبری مشقت کے بڑے قید خانوں کی نذر ہو گئی ہیں ۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مزدور دشمن قوتوں نے محنت کش طبقے کو مذہب، فرقہ ،نسل پرستی میں تقسیم کر کے جمہوریت کو گھر کی باندی بنا رکھا ہے اس جمہوریت کو محنت کشوں کی جمہوریت میں تبدیل کرنے کے لیے محنت کشوں کو خود نکلنا ہو گا ورنہ طالع آزما قوتیں ملک پر دوبارہ تاریکیاں مسلط کر سکتے ہیں ۔

مقررین کا کہنا تھا کہ دیہاتوں کو مکمل طور پر جاگیر داروں کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں زرعی کسان، ہاری کی عزت ، آبرو ، جان اور خودداری کو کچل دیا گیا ہے ۔بجلی، گیس ، پانی ، تعلیم ، صحت اور ٹرانسپورٹ وغیرہ جیسی بنیادی انسانی ضروریات کو منافع کا ذریعہ بنا کر عوام کی دسترس سے باہرکر دیاہے ۔ پاکستان کی چھ کروڑ سے زائد لیبر فورس میں سے 80فی صد غیر منظم مزدور جن میں گھر مزدورعورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو آج بھی اپنی شناخت سے محروم ہیں ۔

دیگر مقررین نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شکاگو کے محنت کشوں کی تابندہ روایات سے قوت لیکر محنت کش طبقہ خود کو ایک متبادل قوت کے طور پر منظم کرنے کا آغاز کرے ۔ محنت کشوں کی یہ جدوجہد مزید طاقتور ہو کرسیاسی محاذ پر بھی خود کو منظم کرے گی اور ملک سے سامراجی تسلط اور سرمایہ داری و جاگیر داری کو ختم کر کے محنت کشوں کا راج قائم کرے گی۔ مزدورں رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کی کم از کم بنیادی تنخواہ 25سے 40ہزار روپے کے درمیان کی جائے ، پینشن اور مراعات دی جائیں ،تمام مزدوروں کو تحریری تقرر نامے جاری کیے جائیں ،کام کی جگہوں پر ہیلتھ اور سیفٹی کو یقینی بنایا جائے،فیکٹریوں اور کارخانوں میں لیبر انسپیکشن بحال کیا جائے،تمام مزدوروں کو سوشل سیکورٹی،اولڈ ایج بینی فیٹ اور دیگرسماجی اداروں سے رجسٹرڈ کیا جائے، آٹھ گھنٹے اوقاتِ کار کو یقینی بنایا جائے ،تمام اداروں بشمول کراچی شپ یارڈ میں یونین سازی کے حق کو بحال کیا جائے،نجکاری کی پالیسی کا فی الفور خاتمہ کیا جائے، ٹھیکہ داری نظام کی تمام شکلوں بشمول تھرڈ پارٹی سسٹم کو ختم کیا جائے،گورنمنٹ ،پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر کے تمام عارضی، کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے،جی ایس پی پلس کے تحت جن لیبر اور انسانی حقوق کا وعدہ کیا گیا ہے انھیں یقینی بنایا جائے ، ہاریوں کے تنظیم سازی اور اجتماعی سودا کاری کے حق کو یقینی بنایا جائے اور زرعی مزدوروں پر لیبر قوانین کے اطلاق کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں،عورتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے اور زمین کی ملکیت پرعورتوں کا حق تسلیم کیا جائے۔

ہوم بیسڈ ورکرز کو ملکی قوانین کے تحت لیبر تسلیم کیا جائے اور انہیں تمام سہولیات مہیا کی جائے،سندھ حکومت ہوم بیسڈ ورکرز کی پالیسی کا جلداز جلد اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے، سانحہ بلدیہ کے لواحقین کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔شپ بریکنگ کے حوالے سے حکومت پالیسی کا اعلان کرے،کانوں کے محنت کشوں کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے ،پاور لومز کے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں ،محنت کشوں کی بستیوں میں پانی، بجلی ، گیس، سیوریج ، روڈ راستوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

Your Thoughts and Comments