ضلع تربت سے 20لاشوں کی برآمد گی‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا ازخود نوٹس لے لیا

بدھ مئی 23:57

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بلوچستان کے ضلع تربت سے 20لاشوں کی برآمد گی کے حوالے سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ہزارہ برادری کے افراد کوزندگی گزارنے کا حق نہیں ہے بتایا جائے کہ ملک میں امن و امان قائم کرنا آخر کس کی ذمہ داری ہے ، آخر حکومت اور لیویزکیا کررہی ہیں ۔

عدالت نے تربت سے لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ کوغیرتسلی بخش قراردیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ ایک ہفتے میں اس حوالے سے نئی رپورٹ عدالت کوپیش کی جائے ،بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہزارہ برادری کی اتنی بڑی ہلاکتیں ہورہی ہیں، میںہزارہ برادری سے مل کر آرہا تھا، لیکن وہ ڈر کے مارے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دے رہے، کیا ہزارہ برادری کوزندگی گزارنے کا حق نہیں، بتایا جائے کہ آخر پولیس اور لیوی فورس کیاکررہی ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے قاتل کھلے عام جلسے کررہے ہیں، جبکہ ہزارہ والوں کو یونیورسٹی میں داخلے نہیں ملتے۔

(جاری ہے)

لوگ اسکول، ہسپتال نہیں جاسکتے۔کیا ہزارہ والے پاکستان کے شہری نہیں۔ چیف جسٹس نے قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں اور حکومت بلوچستان سے جواب طلب کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ بتایا جائے کہ ٹارگٹ کلنگ کی وجوہات کیا ہیں، ہم کوئٹہ میں 11 مئی کواس کیس کی سماعت کریں گے بلوچستان میں لوگ عدم تحفظ کا شکار اور پریشان ہیں‘ بچے سکول نہیں جاسکتے۔

سماعت کے دورا ن ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے سے متعلق سمری سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے وزیراعظم کو بھجوا دی ہے جس کی دوچار روز میں منظوری ہونے کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کردیا جائے گا۔بعدازاں عدالت نے وزارت داخلہ سے نئی رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزیدسماعت ایک ہفتے کے لیئے ملتوی کردی۔

Your Thoughts and Comments