سیکس کی لت کا شکار افرادکے علاج کے لیے برطانیہ میں فلاحی ادارہ قائم

علاج کے لیے آنیوالے افراد کی تعداد 170 ہو گئی ہے جن میں اکثریت مردوں کی ہے، ریلیٹ کا بیان

جمعرات مئی 11:59

لندن(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء)برطانیہ میں تعلقات سے متعلق فلاحی ادارے ریلیٹ نے ایسے افراد کو مدد کی پیشکش کی ہے جو سیکس کی لت کا شکار تھے، دو افراد نے اپنی زندگی پر اس کے اثرات کے بارے میں بات کی ہے ۔اس کی بدترین حالت کے دوران دن میں پانچ مرتبہ سیکس بھی ناکافی تھا۔برطانوی ٹی وی کے مطابق تین بچوں کی ماں ربیکا بیکر کا کہنا تھا کہ وہ 2014 میں اس حالت کا شکار ہوئیں اور ان کے تعلقات خراب ہو گئے۔

ان کی اس عادت کے باعث وہ اپنے پارٹنر سے بار بار سیکس کرنے کے لیے کہتیں۔37 سالہ ربیکا کا کہنا تھا کہ جاگنے کے بعد یہ پہلی چیز ہوتی جس کے بارے میں میں سوچتی تھی۔مجھے ایسا لگتا تھا ہر چیز مجھے اسی کی یاد دلاتی ہے۔ مجھے لگتا تھا شاید یہ میرے ڈپریشن سے منسلک ہے۔

(جاری ہے)

مجھے ایسا لگتا تھا کہ میرا پورا جسم اس کے لیے بھوکا ہے۔اس سے مجھے فوری تسکین ملتی لیکن پانچ منٹ بعد ہی مجھے یہ دوبارہ چاہیے ہوتا۔

فلاحی تنظیم ریلیٹ کے مطابق جنسی عمل کی لت ایسے ہی ہے جیسے کوئی بھی اختیار سے باہر جنسی عمل ہوتا ہے اور امکان ہے کہ عالمی ادارہ صحت جنسی رویے کی بے قاعدگی کی اس کیفیت کو 2019 کی بیماریوں کی درجہ بندی کی فہرست میں شامل کرے گا۔سیکس کی لت کا علاج کرنے والے ادارے اے ٹی ایس اے سی کا کہنا تھا کہ سیکس کی لت ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔اس کا کہنا تھا کہ ان کے پاس مدد کے لیے آنے والے افراد کی تعداد گذشتہ پانچ سال میں دوگنی ہو کر 170 ہو گئی ہے جن میں اکثریت مردو کی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments