انتخابات میں خلائی مخلوق کے متعلق وزیراعظم اور نوازشریف کا بیانیہ ایک ہے،سراج الحق

سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی والوں نے پی ٹی آئی والوں کو ووٹ نہیں دیے تو ہم کیوں دیں ،جو اسلامی نظام کی حمایت نہیں کرتے ، ہم ان کی حمایت کیوں کریں ۔ الیکشن کمیشن انتخابات کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال کو ختم کرے اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ابھی سے اقدامات کا آغاز کردے، امیر جماعت اسلامی

جمعہ مئی 23:54

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ انتخابات میں خلائی مخلوق کے متعلق وزیراعظم اور نوازشریف کا بیانیہ ایک ہے جس سے اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے ۔ سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی والوں نے پی ٹی آئی والوں کو ووٹ نہیں دیے تو ہم کیوں دیں ۔ جو اسلامی نظام کی حمایت نہیں کرتے ، ہم ان کی حمایت کیوں کریں ۔

الیکشن کمیشن انتخابات کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال کو ختم کرے اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ابھی سے اقدامات کا آغاز کردے ۔ کچھ لوگ نادیدہ قوتوں سے مقابلہ کی بات کر کے اپنا وزن بڑھانے اور عوام کی ہمدردیاں لینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایم ایم اے کا مقابلہ سیکولر لبرل طبقہ اور کرپشن سے ہے ۔

(جاری ہے)

ملک کرپشن سے پاک کرنے کے لیے کرپشن کے پروردہ نظام کا خاتمہ ضروری ہے ۔

13مئی کو مینار پاکستان پر ایم ایم اے کا جلسہ تاریخی ہوگا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گجرات میں جماعت اسلامی گوجرانوالہ ڈویژن کے اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔امیر جماعت اسلامی پنجاب میا ں مقصود احمد ، سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ اور امیر ضلع گجرات ڈاکٹر طارق سلیم بھی ان کے ہمراہ تھے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ابھی دینی جماعتوں کے اتحاد نے چلنا بھی شروع نہیں کیا ، مخالفین نے سنگ باری شروع کردی ۔ جب دینی جماعتیں اکٹھی ہوتی ہیں تو مخالفین کہتے ہیں کہ اسلام آباد کے لیے اکٹھے ہوئی ہیں اور جب متحد نہ ہوں تو کہتے ہیں کہ ان کا آپس میں اتفاق نہیں لیکن مخالفین کی ایم ایم اے پر بے جا تنقید سے یہ بات تو عیاں ہے کہ انہیں اس اتحاد سے بہت تکلیف ہے ۔

امیر جماعت نے کہاکہ میں پوچھتاہوں کہ کسی مذہبی لیڈر کا نام پانامہ لیکس میں آیاہے قرضے معاف کرانے والوں یا نیب کے مقدمات میں بھی کسی مذہبی لیڈر کا نام نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور سکینڈل میں مذہبی شخصیات کا نام ہے ۔ ان کی نفرت صرف داڑھی والوں سے ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں داڑھی والوں سے محبت ہے ہمارے پاس پاکستان کو خوشحال اور گرین بنانے کا وژن ہے ۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا گیارہ نکاتی ایجنڈا وہی ہے جو میں پہلے مینار پاکستان کے اجتماع میں پیش کرچکاہوں ۔ ہم زمین پر بسنے والے انسانوں کے مسائل کی بات کرتے ہیں اور یہی ہمارا ایجنڈا ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جمہوری راستہ ہی بہترین راستہ ہے ۔ جماعت اسلامی کا پی ٹی آئی کے ساتھ خیبر پی کے میں حکومتی اتحاد تھا ، پالیسی پر اتحاد نہیں تھا ۔

انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا ، لاک ڈائون کا اعلان کیا ، قومی اسمبلی سے استعفے دیے لیکن یہ ہمارا ایجنڈا ہر گز نہیں تھا ۔ہم نے پارلیمنٹ کا ساتھ دیا اب چونکہ ایم ایم اے بن گئی ہے تو ہم نے جمہوری طریقے سے صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ۔ ہمارے وزراء اپنے حلقوں میں انتخابی مہم چلائیں گے ، البتہ ہم پی ٹی آئی کی حکومت نہیں گرائیں گے ۔

اگر صوبائی حکومت نے بجٹ پیش کیا تو اس کی منظوری کے لیے بھی ساتھ دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے وزراء کی کارکردگی کو وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری سمیت عالمی اداروں کے مبصرین نے بھی سراہا ہے ۔ لوگ پوچھتے ہیںکہ سینیٹ الیکشن کے لیے پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں نہیں دیا میں کہتاہوں اس لیے کہ پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار کی بجائے پی پی کے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دیا ۔

میں اسے جانتاہوں اس نے سینیٹ میں ہماری مخالفت کی جبکہ راجہ ظفر الحق کو اس لیے ووٹ دیا کہ انہوں نے اپنی جماعت مسلم لیگ ن کی بجائے ختم نبوت کے قوانین پر ہماری ترامیم کا ساتھ دیا اور میرے پیش کردہ پانچ نکاتی ایجنڈا کی حمایت کی جس میں فاٹا کا خیبر پی کے میں انضما م بھی شامل ہے ۔ختم نبوت کے معاملہ پر میری تحریک پر راجہ ظفر الحق کے سوا کسی اپوزیشن جماعت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس وقت ملک میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے ۔ حالات یہ ہیں کہ پولنگ سے ایک روز قبل بھی لوگ آپس میں ایک دوسرے کو کہہ رہے ہوں گے کہ پتہ نہیں کل الیکشن ہوگا کہ نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن کو مکمل بااختیار ہوناچاہیے اگر کوئی دھاندلی ہوتو اس کی ذمہ داری متعلقہ ریٹرنگ آفیسر پر ہونی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف کو اللہ نے موقعہ دیاہے کہ توبہ و استغفار کریں ۔

Your Thoughts and Comments