سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں بجٹ پر بحث جاری

بجٹ میں سندھ کی زراعت کو نظر انداز کردیا گیا ،بھاشا ڈیم نہیں بنتا تو ہم سمجھیں گے سندھ میں سی پیک نہیں آیا ،سندھ کو 1991 معاہدے کے تحت پانی نہیں دیا جارہا ، نواب یوسف تالپور ہم خیبر پختو نخواہ کو فاٹا کو ضم کریں گے، چھوٹے صوبوں کی محرومیاں کو دور نہیں کیا جا رہا ہے،خیبرپختو نخواہ بلوچستان کو گیس نہیں مل رہی ہے انشااللہ عمران خان آ رہا ہے ہم سب کچھ ٹھیک کردیں گے، مراد سعید ہم اس پارلیمنٹ کو بدلنا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکس کم کئے گئے ہیں بجٹ میں کئے گئے کاموں پر تو تعریف کرنی چاہئے اپوزیشن کے لیڈر اس ایوان میں آتے ہیں اور پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ صرف احتجاج اور دھرنے دیتے ہیں، میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال و دیگر کی اسمبلی اجلاس میں بجث پر بحث کے دوران اظہار خیال

پیر مئی 23:22

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء) قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ برائے مالی سال 2018-19ء پر بحث جاری ، قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت مین شروع ہوا بجٹ بحث میں حصہ بنتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی نواب یوسف تالیور نے کہا ہے کہ سندھ کی زراعت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اگر بھاشا ڈیم نہیںبنتا تو ہم سمجھیں گے سندھ میں سی پیک نہیںآیا سندھ کو 1991 کے معاہدے کے تحت پانی نہیں دیا جا رہا ہے۔

کسی کا حق نہ مارنا چاہئے اور نہ ہی زیادہ دنیا چاہئے یہ میں نے وزیر سے کہا تھا سندھ کے ساتھ تو پانی کے حوالے سے بڑی زیادتی ہو رہی ہے این ایف سی ایوراڈ میں بھی سندھ حصہ نہیں مل رہا ہے۔ سندھ کو رائیلٹیملنی چاہئے جو نہیں مل رہی انہوں نے کہا ہے کہ این ای سی کی میٹنک سے تین وزیراعلیٰ واک آئوٹ کرکے چلے گئے تھے ۔

(جاری ہے)

لیکن کور م یورانہ ہونے کی باوجود میٹنک چلتی رہی گزشتہ پانچ سال میں سارا بجٹ سڑکوں اور انرجی پر لگا جس کا نتیجہ یہ نکالا کہ نندی پور حویلی بہادر شاہ، ساہیوال کوئلہ پاور جیسے منصوبے لگے ہیں ان میں سے زیادہ تر منصوبے چل ہی نہیں رہے قرضہ پورا ملک ادا کرے اور کام زیادہ ترپنجاب میں ہو اہے۔

لاہور میں 20 ارب رو پے کی لاگت سے لاہور رنگ روڈ بنایا گیاہے۔ 2 ارب روپے کی اورنگ لائن منصوبے پر خرچ کیے گئے ہیں۔ سندھ چھوٹا بھی ہے اس کا خیال رکھا جانا چاہئے لیکن ایسا نہیںہو رہا سندھ میں پانی کا قحط سے پانی نہ ہونے کی وجہ سے جانور مر رہے ہیں تربیلا میں پانی آخری سطح پر ہے ایک طرف لوگ اور جانور پانی کے لئے مر رہے ہیں ۔ حکومت جو تحریر کر رہی ہے اس کے سنگین نتائج ہو ںگے۔

تحریک انصاف کے مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم خیبر پختو نخواہ کو فاٹا کو ضم کریں گے جب چھوٹے صوبوں کی محرومیاں کو دور نہیں کیا جا رہا ہے۔خیبرپختو نخواہ بلوچستان کو گیس نہیں مل رہی ہے انشااللہ عمران خان آ رہا ہے ہم سب کچھ ٹھیک کردیں گے۔ مزدور کی تنخواہ بڑھائی جائے جب پی ٹی آئی حکومت آئے گی تو مزدور کی تنخواہ بڑھے گی ۔ عمران خان جب حلف اٹھائیں گے تو سسوس بنکوں میںواپس بڑا پیسہ ملک میں آئے گا۔

پاکستان کی بڑی سے بڑی معیشت بجلی کا بحران ، بے روز گاری ملک میں 12 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے ۔10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہئے۔ جن کے بچے باہر اور کاروبار باہر کے ملکوں میں کر رہے ہیں۔ 70 لاکھ پاکستانی باہر کے ملکوں میں بیٹھے ہیں جب ملک میں سرمایہ کاری ہو گی کارخانے لگیں گے تو خود بے روز گاری کا خاتمہ ہو گا میرا ملک بدل رہا ہے۔

میرا لیڈر عمران خان آ رہا ہے۔ ہم اپنے ملک کو بدلیں گے۔ میجر ریٹائر طاہر اقبال نے کہا ہے کہ ہم اس پارلیمنٹ کو بدلنا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکس کم کئے گئے ہیں بجٹ میں کئے گئے کاموں پر تو تعریف کرنی چاہئے اپوزیشن کے لیڈر اس ایوان میں آتے ہیں اور پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ صرف احتجاج اور دھرنے دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے فیصلے پارلیمنٹ میں کریں تو باہر سے کسی کی جرت نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کرے پر نئی آنے والی ہاؤسنگ سوسائٹی کو اپنے پانی کو ری سائیکلنگ کا نظام بنانا چاہئے۔

پاکستان میں 72 فیصد اکانوی ذراعت سے منسلک ہے۔ ملک میں زمین داروںکو تربیت کی ضرورت ہے۔ کہ بہتر فصل حاصل کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے جانے چاہئے کسانوں کو موسمی ھالات سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے اچھی نسل کے بیچ کسانوں کو فراہم کیے جانے چاہئے۔ ملک میں 12 ہزار میگاواٹ نئی بجلی سسٹم میں آئی ہے ۔ لیکن ہماری عوا کو بجلی کے استعمال کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ فل اے سی چلا کر اوپر کمبل لے کر سو رہے ہوتے ہیں بجلی اور پانی کی بچت کے لئے عوام کو تربیت کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کی ترقی میں سی پیک کا ایک بہت بڑا منصوبہ آیا ہے۔ ہمیں چائنہ کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔

Your Thoughts and Comments