پاکستان میں روزانہ5000 لوگ دل کی بیمایوں کے باعث ہسپتال میں داخل ہورہے ہیں، رپورٹ

پیر مئی 21:48

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ)پچھلی۴۳ سالوں سے دل کے بیماریوں کے خلاف جہاد کر رہی ہے۔ پاکستان میںسب سے زیادہ اموات دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں اور دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے کیونکہ تمباکو نوشی دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔

90 فیصد بیماریاں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔پاکستان میں روزانہ تقریباً5000 لوگ دل کی بیمایوں اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہور ہے ہیں اور تقریباً300 افراد موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور 1200 بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کر رہے ہیں۔ تمباکو نوشی کے نقصانات کی وجہ سے پوری دُنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

ورلڈ ہیلتھ آرگینازیشن (WHO) نے اس کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لئے 2003 میں فریم ورک کنونشن آن تمباکو کنٹرول (FCTC) کا اجلاس کروایا جس میں تمباکو کے کنٹرول کو روکنے پر غور کیا گیا۔

پاکستان بھی اس کا ممبر ہے اور پاکستان میں تمباکو کے روک تھام کے لئے ہرسال ٹیکس بڑھانے کے قوانین بنائے گئے ۔سروے کے مطابق سگریٹ مہنگا کرنے سے اس کے استعمال میں خاطرخواہ کمی آتی ہے۔حکومت نے پچھلے سال کے بجٹ میں تمباکو کے ریٹ کم کر دیئے جس کی وجہ سے تمباکو نوشوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور دل کی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا اور جو لوگ پہلے ایک سگریٹ لیتے تھے اب وہ پوری سگریٹ کی ڈبی خرید کر پیتے ہیں۔

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ ) نے گورنمنٹ کی طرف سے سگریٹ کے ریٹ کم کرنے پر اپنے تحفظات وزیر اعظم ، سپیکر قومی اسمبلی، وزیر خزانہ، وزیر صحت، سینٹ کے چیئر مین، اپوزیشن لیڈر کو بھیجے تھے ، پر ان میں سے کسی نے بھی اس قومی مسئلہ پر کان نہ رکھا۔ حکومت نے اپنے مواقف میں کہا کہ پاکستان میں45 فیصد غیر قانونی سگریٹ فروخت ہوتے ہیںجس کو کم کرنے کیلئے حکومت نے تمباکو پر ٹیکس کم کیا جبکہ پناہ نے دوسری این جی اوز کے ساتھ مل کر ایک سروے کیا جس کے مطابق پاکستان میںصرف 9فیصدغیر قانونی سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں ۔

پناہ نے آخر کار وفاقی محتسب کو ایک درخواست دی ۔ پناہ کورٹ کو اپنے موقف پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی لیکن پھر بھی حکومت کے نمائندگان نے اس پر کوئی عمل درآمد نہ کیا۔ 2018-2019 کے بجٹ سے پہلے بھی پناہ نے صاحب اختیار لوگوں سے ملاقاتیں کر کے تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کی اپیل کی ۔ ہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پناہ کے موقف کی تائید کی اور سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے پر زور دیا۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے پناہ کی تمباکو نوشی کے خلاف ریلی جس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل (ر) کمال اکبر، سابقہ سرجن جنرل پاکستان آرمی اور صدر پناہ میجر جنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی سابقہ کمانڈنٹ اے ایف آئی سی نے کی جس میں پناہ کے ممبران کے علاوہ مختلف این جی اوز اور سکول کے بچوں نے شرکت کی ۔ اس ریلی کا مقصد حکومت پاکستان کو یہ باور کروانا تھا کہ تمباکو پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کرلوگوں اور خاص طور پر بچوں کی پہنچ سے دور کیا جائے تا کہ پاکستانی اعوام تمباکو کے مضر اثرات سے بچ سکیں۔

Your Thoughts and Comments