سپریم کورٹ کا پی ٹی وی کی تباہ حالی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر اینکر پرسن اور ایچ آر ک وآڑڈینٹر کی شکایات پر نوٹس

پی ٹی وی انتظامیہکل جواب جمع کرائے گی

بدھ مئی 00:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر پی ٹی وی کی تباہ حالی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر اینکر پرسن اور ایچ آر ک وآڑڈینٹر کی شکایات پر لئے گئے نوٹس کا پی ٹی وی انتظامیہ کل (بدھ) کو جواب جمع کرائے گی۔ پی ٹی وی کے سابق چیئر مین کے خلاف لئے گئے از خود نوٹس کی گزشتہ روز سماعت پر جو یریہ قریشی نے چیف جسٹس کے رو برو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر قومی ادارے کی تباہی و بربادی اور اپنے خلاف کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کانوٹس لینے کی استدعا کی تھی جس پر چیف جسٹس نے پی ٹی وی انتظامیہ سے 9 مئی کو تحریری جواب طلب کیا تھا۔

جویریہ قریشی نے چیف جسٹس کو اپنی تحریری درخواست میں الزام لگایا تھا کہ بعض افسران پی ٹی وی ملازمین خاص طور پر خواتین ملازمین کو مختلف طریقوں سے پریشان کر رہے ہیں جن کا ذمہ دار حکام شکایات کے باوجود نوٹس لینے کو تیار نہیں الٹا ملازمین کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

تحریری درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب خاتون ہونے کے باوجود خواتین ملازمین کی شکایات کا ازالہ نہیں کر رہیں اور سارا وقت اپنی سیاسی سرگرمیوں میں گزارتی ہیں۔

تحریری درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق چیئر مین پی ٹی وی کے چلے جانے کے باوجود ادارہ میں ہر طرح کی کرپشن عروج پر ہے اور ادارہ میں اہم عہدوں پر قوائد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر سے من پسند لوگوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اپنی درخواست میںجو یریہ قریشی نے عدالت کو بتایا ہے کہ جب انہوں نے زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے ہیڈکواٹر سے سنٹر میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ ان کی پوسٹ ہی ہیڈ کوارٹر کی ہے اور ان کے پروگرام کو بھی بند کر دیا گیا جبکہ انتظامیہ نے اپنے منظور نظر اینکر کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہوں پر بھر تی کر رکھا ہے دوسری طرف ادارہ کے سیکنڑوں ریٹائرڈ ملازمین چند ہزار پنشن نہ ملنے سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔

درخواست میں چیف جسٹس سے پی ٹی وی کے مستقبل ایم ڈی کی تعیناتی اور ادارہ میں حالات کار کی بہتری کے لئے فوری اقدامات کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ جو یریہ قریشی کی درخواست پر چیف جسٹس نے 9 مئی کو پی ٹی وی انتظامیہ سے تحریری جواب طلب کیا تھا۔

Your Thoughts and Comments