پارلیمنٹ کو کچھ اصول طے کرنا ہونگے جن پر عمل کرتے ہوئے صحت ‘تعلیم اور حساس معاملات پر سیاست نہ ہو‘صحت ‘تعلیم ‘مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لئے پنجاب ‘کے پی کے ٹاسک فورسز فعال کر دار ادا کررہی ہیں ،18ویں ترمیم کے بعد شعبے صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد صحت ‘تعلیم سمیت سماجی مسائل اجاگر کرنے اور انکے حل کے لئے آگے بڑھنے کے لئے پائیدار ترقی کے اہداف سیکرٹریٹ اور صوبائی ٹاسک فورسز بہترین فورم ہیں‘تازہ ترین ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے تھنک ٹینکس کا اہم کردار ہوتا ہے ‘ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ اور بین الاقوامی شراکت دار موثر قانون سازی کے لئے ڈیٹا فراہمی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ‘ ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ اراکین پارلیمنٹ کو بیرون ملک دوروں سے قبل ڈیٹا حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کرتا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اورایس ڈی جیزپارلیمانی ٹاسک فورس کی کنوینر مریم اورنگزیب کااجلاس سے خطاب

بدھ مئی 00:12

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جیز) پارلیمانی ٹاسک فورس کی کنوونیئر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو کچھ اصول طے کرنا ہونگے جن پر عمل کرتے ہوئے صحت ‘تعلیم اور حساس معاملات پر سیاست نہ ہو‘صحت ‘تعلیم ‘مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لئے پنجاب ‘کے پی کے ٹاسک فورسز فعال کر دار ادا کررہی ہیں ،18ویں ترمیم کے بعد شعبے صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد صحت ‘تعلیم سمیت سماجی مسائل اجاگر کرنے اور انکے حل کے لئے آگے بڑھنے کے لئے پائیدار ترقی کے اہداف سیکرٹریٹ اور صوبائی ٹاسک فورسز بہترین فورم ہیں‘تازہ ترین ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے تھنک ٹینکس کا اہم کردار ہوتا ہے ‘ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ اور بین الاقوامی شراکت دار موثر قانون سازی کے لئے ڈیٹا فراہمی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ‘ ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ اراکین پارلیمنٹ کو بیرون ملک دوروں سے قبل ڈیٹا حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کرتا ہے۔

(جاری ہے)

وہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی پارلیمانی ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔اجلاس میں ایم این اے طاہرہ اورنگزیب زیب جعفر ‘رومینہ خورشید عالم ‘نفیسہ عنائیت اللہ ‘ثمینہ محی الدین جملی، مسرت احمد زیب ‘شہریار آفریدی کے علاوہ دیگر ممبران ‘یونیسف ‘آئی ایس اے پی ایس کے نمائندے بھی شریک تھے۔

اجلاس کو تعلیم کے مساوی مواقعوں کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ فروغ تعلیم کے لئے سکول چھوڑ جانے والے ‘معذوری اور مزدوری کے لئے سکول چھوڑنے والے بچوں کو واپس لانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ‘فروغ تعلیم میں رکاوٹ بننے والے عناصر بھی ختم کرنے ہونگے۔ضلعی سطح پر تعلیمی امور سے متعلق منصوبہ بندی کو یقنی بنایا جائے۔

بتایا گیا کہ پنجاب کی سطح پر پنجاب ایجوکیشن اتھارٹیز کا قیام خوش آئند ہے باقی صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی کی ممبر نفیسہ شاہ نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتی کے بعد دور دراز کے اضلاع میں تعیناتی اور ٹرانسفر سے کچھ ایشوز جنم لیتے ہیں ان کا تدارک ہونا ضروری ہے۔ممبر کمیٹی زیب جعفر نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت ‘نشونما رکنے سمیت دیگر مہلک بیماریوں سے نمٹنے کے لئے کے لئے اصل ڈیٹا ہونا ضروری ہے۔

ممبر کمیٹی نے کہا کہ میرا تعلق کالام اور بہرین کے علاقے سے ہے سوات میں 100 فیصد سکول اوپن ہوچکے ہیں اور بہتر انداز میں تدریسی امور سرانجام دے رہے ہیں۔کے پی کے حکومت نے 2013تا 2018کے دوران اساتذہ کی بھرتی اور تعیناتی یونین کونسل کی سطح پر مخصوص کر دی ہے اور حاضری کے لئے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اس سے حاضری اور تعلیمی معیار دونوں میں بہتری آئی ہے۔

ممبر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ پارلیمانی ٹاسک فورس کا مقصد صرف پاکستانیت ہے ‘ اہم نوعیت کے چیلنجز کو ہم نے ملکر حل کرنا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمانی ٹاسک فورس کا بجٹ بھی ہونا چاہیے تا کہ ٹاسک فورس سیٹک ہولڈرز کے ساتھ ملکر اچانک دورے کرے اور ایس ڈی جیز پر عمل درآمد کو مزید بہتر بنائے۔ممبر کمیٹی مسرت زیب نے کہا کہ ہمارے ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کے لئے 10کروڑ روپے لاگت کا پراجیکٹ ایس ڈی جیز فنڈز سے ہوا ہے آئندہ ہفتے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبائی ٹاسک فورسز میں خیبر پختونخوا، پنجاب کا تعلیم و صحت کے شعبے میں فعال کردار ہے۔انہوں نے کہا کہپارلیمنٹ کچھ اصول وضع کرنے ہیں،تعلیم اورصحت جیسے اہم معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا جمع کرنے میں بین الاقوامی پارٹنرکے اہم کردار کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی جی سیکرٹریٹ صوبائی ٹاسک فورسز کے درمیان رابطہ قائم کرنے کا کام بخوبی سرانجام دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ڈیٹا جمع کرنے کیلئے تھنک ٹینکس قائم ہوتے ہیں،ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوطی اور ارتقاء کیلئے وقت دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی جی سیکرٹریٹ میں عوامی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments