وال سٹریٹ میں ’’ بٹ کوئین ‘‘ کے استعمال کی اجازت ملنے کا امکان

منگل مئی 20:06

سان فرانسسکو۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل مئی ء)دنیا کی سب سے بڑی مالیاتی منڈی وال سٹریٹ میں بٹ کوئین کے استعمال کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔ مشہور امریکی جریدے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے کچھ بڑے ادارے کاروباری لین دین میں بٹ کوئین کے استعمال کی تیاری کر رہے ہیں اور نیویارک سٹاک ایکسچینج سے وابستہ ایک کمپنی آن لائن تجارتی پلیٹ فارم پر کام کر رہی ہے جس کے تحت سرمایہ کار بٹ کوئین خرید سکیں گے۔

جریدے نے رپورٹ کی تیاری کیلئے ای میلز اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا اور 4 مختلف افراد کی آراء حاصل کیں جنھوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس پروگرام کے بارے میں آگاہ کیا۔ وال سٹریٹ بزنس کے بڑے بروکرز کی بٹ کوئین میں دلچسپی سے اس کرنسی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گا۔

(جاری ہے)

جریدے کے مطابق انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج کے بٹ کوئین پلیٹ فارم کو تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی اور یہ منصوبہ اب بھی وال سٹریٹ کے ورچوئل کرنسیز کی وائلڈ ویسٹ کے ساتھ جڑے کاروباری اداروں کے لیے ہچکچاہٹ کا باعث ہونے کے سبب اب بھی تکمیل سے کافی دور ہے۔

ایک ترجمان کے مطابق کمپنی اس حوالے سے خاموش ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ بٹ کوئین کی متعارف کردہ ٹیکنالوجی میں کئی کارپوریشنز اور حکومتوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ نیویارک کے نسداق انڈیکس کی چیف ایگزیکٹو عدینہ فرائیڈمین نے حال ہی میں کہا کہ اگر ریگولیٹری معاملات کو مستحکم کرلیا جائے تو ان کی کمپنی بھی ایک ورچوئل کرنسی ایکسچینج قائم کرسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ورچوئل کرنسی کا اجراء 2008 ء کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد ستوشی ناکا موٹو نامی ایک خفیہ پروگرامر نے کیا ۔ اس خیال کا مقصد موجودہ بینکنگ سٹرکچر کو ایک آن لائن نظام سے تبدیل کرنا ہے جسے بھرپور اور مضبوط تنظیموں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے۔ بٹ کوئین کرنسی کا اصل مقصد اسے صارفین کے زیر استعمال لانا تھا تاکہ وہ اسے ہرطرح کے لین دین میں بغیر کسی مالیاتی ادارے کی شمولیت کے استعمال کرسکیں ۔

دنیا بھر مین اس کرنسی کو زیادہ تر ورچوئل سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیا گیا اور اسے ڈیجیٹل ’’ والٹس‘‘ میں رکھا گیا اور اس کا زیادہ تر استعمال غیر منظم ایکسچینجز کے ذریعے کیا گیا۔ لوگ بٹ کوئین کو اس امید کے ساتھ خریدتے ہیں کہ اس کی قدر میں اسی انداز میں اضافہ ہوگا جس طرح سونے اور چاندی کی قدر میں ہوتا ہے تاہم اسے اب بھی مالیاتی دنیا کے اہم دھارے میں شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔بٹ کوئین کے روز مرہ تجارتی سرگرمیوں میں استعمال کے حوالے سے کوششوں کو تاحال کامیابی نہیں ملی اور سرمایہ کار اسے سونے اور چاندی کے طرح نمائشی چیز قرار دیتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments