سابق وزیراعظم نواز شریف پر 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم بھارت بھجوانے کے نوٹس کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرکے کل جمعرات تک آگاہ کریں،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کو ہدایت

نیب چیئرمین کو طلب کرنا مناسب نہیں ہوگا کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے، کمیٹی کے قیام کے حوالے سے اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے، پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر، ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین کا اظہار خیال

بدھ مئی 20:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نیب کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف پر بھارت کو منی لانڈرنگ کے ذریعے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم بھجوانے کے نوٹس کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرکے انہیں (آج) جمعرات تک آگاہ کریں۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کمیٹی کے قیام کے حوالے سے تجویز کے بعد پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ہی نیب کا ادارہ قائم کیا ہے ان کو یہاں طلب کرنے کا مقصد کام روکنے کے مترادف ہوگا یہ ایک نئی روایت ہوگی کمیٹی کے قیام کے حوالے سے ہم اپنی جماعت سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

سپیکر نے کہا کہ کل تک انتظار کر لیتے ہیں آپ پارٹی سے مشورہ کرلیں۔ پی ٹی آئی کے اسد عمر نے کہا کہ نیب کی رپورٹ ٹھیک ہے یا غلط وہ اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم یہ ورلڈ بنک کی رپورٹ ہے۔ جس دن یہ رپورٹ سامنے آئی تھی اسی دن وزارت خزانہ کو یہ معاملہ اٹھانا چاہیے تھا، یہ کمیٹی نہیں بننی چاہیے۔ ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ اگر یہ معاملہ اداروں کے پاس گیا ہے تو ہمیں اداروں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔

وزیراعظم کی کمیٹی قائم کرنے کے حوالے سے تجویز پر پارٹی سے مشاورت کے بعد فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے کہا کہ کرپشن کے معاملات پر ہم نے اداروں کا رخ کیا۔ اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے شفافیت نہیں آئے گی۔ سیاسی دبائو سے اداروں میں انصاف کا قتل ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کریں اور ان کے فیصلے سے جمعرات تک سپیکر کو آگاہ کریں۔

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب چیئرمین کو طلب کرنا مناسب نہیں ہوگا کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے وزیراعظم کی اس تحریک یا قرارداد کو ایوان میں اس وقت تک پیش نہ کیاجائے جب تک اپوزیشن جماعتیں اس پر اتفاق رائے نہیں رکھتیں لہذا میری درخواست ہوگی کہ ایک آدھ دن کا وقت دیاجائے ۔

Your Thoughts and Comments