امریکی اعلان کے بعد ایران کا یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کوکارروائیوں کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت دیدی،حسن روحانی

بدھ مئی 12:00

تہران(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء)ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کہا ہے کہ وہ اس جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے اور اس حوالے سے چین، روس اور دیگر یورپی ممالک سے مشاورت کریں گے۔ اگر معاہدہ ٹوٹا تو ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرے گا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے فوراً بعد ہی سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ اس فیصلے کے معاشی نتائج کی فکر نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اب سے یہ معاہدہ ایران اور پانچ ممالک کے درمیان ہے اور ہم کسی فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل چند ہفتے انتظار کریں گے اور 2015 کے معاہدے میں شامل دیگر ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین کے ساتھ بات کریں گے۔

(جاری ہے)

حسن روحانی نے کہا کہ ایران امریکی صدر کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کے جواب میں یورینیئم کی ’لا محدود‘ افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں نے ایرانی اٹامک اینرجی آرگنائزیشن کو مستقبل میں کارروائیوں کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ہم لامحدود صنعتی افزودگی دوبارہ شروع کر سکیں۔حسن روحانی نے مزید کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا ہوگا کہ پانچ عظیم ممالک کیا کرتے ہیں۔انھوں نے اس بارے میں کہا کہ اگر ہمارے مفادات کو نظر میں نہ رکھا گیا تو میں لوگوں سے بات کروں گا اور انھیں ان فیصلوں سے آگاہ کروں گا جو لیے جا چکے ہیں۔

Your Thoughts and Comments