باپ بیٹاپلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ سے کروڑوں کے مالک بن بیٹھے

بدھ مئی 23:18

منی پور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء)بھارتی ریاست منی پور میں باپ بیٹاپلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ سے کروڑوں کے مالک بن بیٹھے،منی پور میں پلاسٹک کی 120اقسام میں سے 30قسمیں ری سائیکل کی جاتی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال میں باپ بیٹے کی محنت رنگ لائی۔ ابتدا میں انہوں نے لوگوں کے گھروں اور دکانوں سے پلاسٹک کچرا جمع کرکے ری سائیکلنگ کا کام شروع کردیا۔

امپھال کے رہنے والیسافٹ ویئر انجینیئرسڈوکپم ایتومبی نے اپنے والدسڈوکپم گونا کانتا کے تعاون سے ری سائیکلنگ فیکٹری قائم کی جہاں بڑے پیمانے پر پلاسٹک کے کچروں کو مختلف مراحل سے گزار کر استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔ایتومبی کا کہنا ہے کہ پلاسٹک سے فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

یہ انسانوں ،جانوروں اور پیڑ پودوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے لہذا والدکے مشورے سیپلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ کیلئے فیکٹری قائم کی تاکہ شہر کو فضائی آلودگی سے پاک اور صاف ستھرا بنایا جاسکے۔

ایتومبی نے 2007 میں ایس جے پلاسٹک انڈسٹریز کے نام سے کمپنی قائم کی۔بازاروں،گھروں اور قرب جوار سے پلاسٹک کے کچرے خرید کر ری سائیکلنگ کا کام شروع کیا۔2010 میں جدید مشینیں نصب کی گئیں جہاں ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے کچرے کی مدد سے پائپ، ٹب ،بوتلیں اور دیگر اشیا تیار کی جانے لگیںجو کروڑوں کی آمدنی کا ذریعہ بن گئیں۔واضح ہو کہ منی پور میں پلاسٹک کی 120اقسام پائی جاتی ہیں۔ان میں سے 30قسمیں منی پور میں ری سائیکل کی جاتی ہیں،باقی گوہاٹی اور دہلی میں قائم انڈسٹریز میں بھیج دی جاتی ہیں۔

Your Thoughts and Comments