احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت

واجد ضیائ نے گلف اسٹیل ملز کے شئیرز کی فروخت کا معاہدہ اور قطری شہزادے کے خطوط سمیت اہم دستاویزات پیش کر دیں ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کا بیان قلمبند کرنے سے متعلق فیصلہ 14مئی کو کیا جائے گا

جمعرات مئی 21:17

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء) نواز شریف اور ان کے بچوں حسن نواز اور حسین نواز کیخلاف العزیزیہ ریفرنسز میں پانامہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیائ نے گلف اسٹیل ملز کے شئیرز کی فروخت کا معاہدہ اور قطری شہزادے کے خطوط سمیت اہم دستاویزات احتساب عدالت میں پیش کر دی ہیں ۔ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کا بیان قلمبند کرنے سے متعلق فیصلہ 14مئی کو کیا جائے گا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں بیان قلمبند کراتے ہوئے واجد ضیائ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جے آئی ٹی کو سوالنامہ دیا جن جواب جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں دیا۔جے آئی ٹی نے پاکستان سے باہر شواہد حاصل کرنے کیلئے ایم ایل ایز لکھے۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکام کو بھی ایم ایل ایز بھجوائے گئے تاہم سعودی عرب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے دوران جمع کرائی گئی پیٹیشنز اور متفرق درخواستوں کا جائزہ لیا اور ایس ای سی پی ،ایف بی آر اور بینکوں سے کیس سے متعلق ریکارڈ حاصل کیا۔ جے آئی ٹی نے نواز شریف،شہباز شریف، مریم نواز ،حسن نواز ، حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات قلمبند کیے۔واجد ضیائ نے مریم نواز،حسن اور حسین نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیانات کی کاپیاں پیش کیں تو نواز شریف کے وکیل نے اعتراض کردیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ مریم نواز اس کیس میں گواہ نہیں ہیں اور حسن اور حسین نواز بھی عدالت کے سامنے موجود نہیں ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حسن اور حسین نواز کیس میں ملزم نامزد ہیں اور اشتہاری قرار دئیے جانے کے بعد ان کی عدم موجودگی میں شواہد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جارہا ہے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ نے ٹرائل مکمل کرنے کیلئے نو جون تک کا وقت دیا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں ملزمان کا بیان بھی ساتھ ساتھ شروع کردتیے ہیں۔ہوسکتا ہے ملزمان اپنے دفاع میں کوئی غیر ملکی گواہ پیش کریں تو اس کیلئے بھی انتظامات کرنا ہوں گے۔خواجہ حارث نے کہا کہ اس اسٹیج پر ملزمان کا بیان شروع نہ کیا جائے۔ ایسا کرنے سے ہمارا نقصان ہوگا۔سپریم کورٹ میں بھی یہ بات کی ہے کہ دیگر ریفرنسز میں گواہوں کا بیان مکمل ہونے سے پہلے ایون فیلڈ میں ملزمان کا بیان قلمبند کرنے سے ہمارا دفاع متاثر ہوگا۔ جج محمد بشیر نے ریمارکس دئیے کہ ابھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی نہیں ملی۔ملزمان کے بیان سے متعلق فریقین کے دلائل گیارہ مئی کو سنے جائیں گے۔واجد ضیائ جمعہ کو بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔ بشارت راجہ

Your Thoughts and Comments