حاضر سروس جج کے خلاف دائر شکایت کا جائزہ ان کیمرہ لیا جائے گا، الزامات کا سامنا کرنے والا جج چاہے تو اس کا ٹرائل کھلی عدالت میں ہوسکتا ہے،

لیکن کھلی عدالت میں کارروائی کرنے کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید سے مشروط ہے، سپریم کورٹ عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ سنا دیا

جمعرات مئی 23:13

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء) سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں کرنے سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ سنا تے ہوئے قراردیا ہے کہ کسی بھی حاضر سروس جج کے خلاف دائر شکایت کا جائزہ ان کیمرہ لیا جائے گا تاہم سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے کے اوپن ٹرائل کے لیے درخواستوں کو دوبارہ زیرِ غور لاتے ہوئے پہلے فیصلے سے قطع نظر درخواستوں کی سماعت کرے۔

جمعرات کو کیس سے متعلق متفقہ فیصلہ5 رکنی لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس عظمت سعید نے سنایا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل نے دونوں جج صاحبان کی جانب سے دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ شکایات کا سامنا کرنے والے ججوں کا اوپن ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

(جاری ہے)

عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ حاضر سروس جج کا ٹرائل کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ ٹرائل کا سامنا کرنے والے جج پر منحصر ہے۔

یعنی اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کرنے والا جج چاہے تو اس کا ٹرائل کھلی عدالت میں ہوسکتا ہے، لیکن کھلی عدالت میں کارروائی کرنے کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید سے مشروط ہے۔ عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے قراردیا ہے کہ ججوں کا مواخذہ کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل کی حیثیت منفرد نوعیت کی ہے، یہ عدالتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا ٹربیونل ہے اور اس فورم پر ہونے والی کارروائی کے دو حصے ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جج کے خلاف شکایت سمیت اس بات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے کہ الزامات کا سامنا کرنے والے جج کو نوٹس جاری کرنا ہے یا نہیں۔ دوسرے مرحلے میں جج کے خلاف انکوائری کی جاتی ہے۔ تاہم عدالت نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوسرے مرحلے کو کھلی عدالت میں سننے کا معاملہ کونسل اور جج کی رضامندی سے مشروط کردیا ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بعد خود کو اوپن ٹرائل کے لیے پیش کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل ا ن کیخلاف دائر ریفرنس کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرے۔

Your Thoughts and Comments