پاکستان کے عسکریت پسندوں نے بھارت میں جا کر ممبئی پر حملہ کیا

مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ یہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردیں، یہ عمل ناقابل قبول ہے، یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے: نواز شریف کا انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے خیالات کا اظہار

ہفتہ مئی 19:44

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ ہفتہ مئی ء) نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عسکریت پسندوں نے بھارت جا کر ممبئی پر حملہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں متنازعہ بیان دیا گیا ہے۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عسکریت پسندوں نے بھارت جا کر ممبئی پر حملہ کیا۔

 نواز شریف کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ یہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردیں۔ ان کا یہ عمل ناقابل قبول ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے مزید کہا ہے کہ اگر ملک میں دو یا تین متوازی حکومتیں ہوں تو آپ ملک نہیں چلا سکتے ۔

(جاری ہے)

صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ضروری ہے ۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے، انہیں لے جایا گیا ہے ۔ دوبارہ حکومت ملی تو اپنی پالیسیاں جاری رکھیں گے۔ نواز شریف نے اپنے اور اہل خانہ کے خلاف جاری احتساب کے عمل کے بارے میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے۔

اس کیلئے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔ نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ جانے والے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابق اراکین کے بارے میں کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اگر واقعی ’محاذ‘ تھا تو وہ 2 دن بھی اس پر کیوں نہ ڈٹ سکے اور فوری طور پر تحریک انصاف میں شامل ہونے کیلئے انہیں کس نے مجبور کیا ۔

نوازشریف نے کہا کہ لوگوں میں مجھے کیوں نکالا کا نعرہ بہت مقبول ہے اور لوگ اس حوالے سے خاص جذبات رکھتے ہیں۔ جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کون کریگا اور کیا شہباز شریف ممکنہ طور پر وزارت عظمیٰ کے اگلے امیدوار ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی خدمات کے سب ہی معترف ہیں ،ْ آپ شہر پر نظر دوڑائیں انہوں نے اس کا حلیہ بدل کے رکھ دیا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے تناظر میں کہا کہ جب پہلے سال سے ہی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جائیں گی تو اصلاحات کیسے ممکن ہوں گی ۔جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے ،ْہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا ،ْافغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں ،ْاس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے ،ْ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردیں ،ْیہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔

انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ اگر پھر حکومت ملی تو وہ اس سے مختلف کچھ نہیں کریں گے۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ آئین سب سے مقدم ہے اور اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں ہم نے ایک آمر کے خلاف مقدمہ چلایا جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ماضی کی طرح حراست سے بچنے کیلئے جلاوطنی اختیار کرنے کیلئے ڈیل کی کسی پیشکش پر دوبارہ غور کریں گی جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں 66 پیشیاں بھگتے کے بعد ایسا کیوں کروں گا مجھے اتنی بھی مہلت نہیں دی گئی کہ لندن میں زیر علاج اپنی اہلیہ سے ملاقات کرنے جا سکوں، دور رہنا آسان نہیں ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں، یہ کھیل بہت عرصے سے جاری ہے اب کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ واضح رہے کہ نواز شریف کی جانب ان خیالات کا اظہار صحافی سیرل المیڈا کو دیے گئے انٹرویو میں کیا گیا۔ سیرل المیڈا وہی صحافی ہیں جن کا ڈان لیکس سے تعلق ہے۔

Your Thoughts and Comments