سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والے 222 افرادکونوٹس جاری کردیئے، 8 جون کو تمام افراد کوذاتی حیثیت میں طلب

ان لوگوں نی54 ارب روپے کے قرض معاف کرائے، یہ واضح ہے کہ قرض معاف کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی جبکہ کمیشن بھی 222 افرادکیخلاف کارروائی کی سفارش کرچکا ہے،چیف جسٹس

اتوار مئی 18:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء) سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرانے سے متعلق کیس میں قرضہ معاف کرانے والے 222 افرادکونوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 8 جون تک ملتوی کردی اور تمام افراد کوذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ اتوار کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنر ل رانا وقار نے پیش ہوکرعدالت کو آگاہ کیا کہ گورنراسٹیٹ بینک نے قرضوں کے بارے میں جسٹس ریٹائرڈ سید جمشید علی کمیشن کی رپورٹ کی سمری عدالت میں جمع کرادی ہے۔ چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ گورنراسٹیٹ بینک خودکہاں ہیںہمیں مکمل تفصیلات بتائی جائیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 222 افرادنے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرائے ہیں۔

(جاری ہے)

جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ان لوگوں نی54 ارب روپے کے قرض معاف کرائے جوقوم کاپیسہ ہے، یہ واضح ہے کہ قرض معاف کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی جبکہ کمیشن بھی 222 افرادکیخلاف کارروائی کی سفارش کرچکا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے قرض معاف کرانے والے 222 افرادکونوٹس جاری کر تے ہوئے متعلقہ افراد کو آئند ہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اورمزید سماعت 8 جون تک ملتوی کردی۔

Your Thoughts and Comments