وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے، نواز شریف کاانٹرویو توڑ مروڑ کرپیش کیا گیاانہوںنے بیان کی تردید کی ہے،

نان اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی، سابق وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے ممبئی حملوں سے متعلق ایسا بیان نہیں دیا، نواز شریف سے منسوب بیان کے کچھ حصے درست نہیں،سول ملٹری تعلقات ویسے ہی ہیں، جیسے نواز شریف کے بیان سے پہلے تھے،خلائی مخلوق ہو یا زمینی ،ہم الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے، مجھے نہ کوئی کھینچ رہا ہے اور نہ ہی کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے، میں نہ ہی استعفے کا سوچ رہا ہوں اور نہ ہی استعفیٰ دوں گا، قومی سلامتی کمیٹی نے ان الفاظ کی مذمت کی جو غلط پیش کئے گئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پریس کانفرنس سے خطاب

پیر مئی 19:07

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے، نواز شریف کاانٹرویو توڑ مروڑ کرپیش کیا گیاانہوںنے بیان کی تردید کی ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی، سابق وزیراعظمنے بتایا کہ انہوں نے ممبئی حملوں سے متعلق ایسا بیان نہیں دیا، نواز شریف سے منسوب بیان کے کچھ حصے درست نہیں،سول ملٹری تعلقات ویسے ہی ہیں، جیسے نواز شریف کے بیان سے پہلے تھے،خلائی مخلوق ہو یا زمینی ،ہم الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے، مجھے نہ کوئی کھینچ رہا ہے اور نہ ہی کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے، میں نہ ہی استعفے کا سوچ رہا ہوں اور نہ ہی استعفیٰ دوں گا، قومی سلامتی کمیٹی نے ان الفاظ کی مذمت کی جو غلط پیش کئے گئے۔

(جاری ہے)

پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میرا انٹرویو غلط انداز سے پیش کیا گیا، نواز شریف نے بیان کی تردید کی ہے، ہمیں بھارتی پروپیگنڈا کا حصہ نہیں بننا چاہیے،پاکستان نے کبھی اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی، ممبئی حملے کے ملزمان پاکستان سے نہیں تھے، نواز شریف نے کبھی نہیں کہا کہ حملہ آور پاکستان سے تھے، ایک لمبے انٹرویو سے 3 لائنوں کو اچھالا گیا، نان اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق غلط رپورٹ کی گئی، نواز شریف نے بتایا کہ ان کی بات کی غلط رپورٹنگ کی گئی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور نہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے کہنے پر وضاحت دے رہا ہوں، نواز شریف نے بتایا کہ انہوں نے ممبئی حملوں سے متعلق ایسا بیان نہیں دیا، نواز شریف نے اس قسم کا بیان نہیں دیا، نواز شریف نے کہا کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے، نواز شریف نے نہ ایسی بات کی نہ ان کا ایسا مقصد تھا، نواز شریف اس بات پر قائم ہیں کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف سے منسوب بیان کے کچھ حصے درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے میری میٹنگ سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ کے بعدہوئی ہے، نواز شریف نے مجھے نہیں کہا کہ آپ میرے لئے پریس کانفرنس کریں،بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں جاسوسی کی، بھارتی میڈیا نے نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں اچھالا، میرے وزیراعظم آج بھی نواز شریف ہیں، پارٹی آج بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے، غیر ریاستی عناصر کو اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی، پاکستان نے ہمیشہ غیر ریاستی عناصر کی سرکوبی کی، سول ملٹری تعلقات ویسے ہی ہیں، جیسے نواز شریف کے بیان سے پہلے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپنے مقررہ وقت سے ایک منٹ پہلے بھی نہیں چھوڑیں گے، خلائی مخلوق کی بات کریں تو الیکشن کمیشن برا مان جاتا ہے، نواز شریف نے یہ نہیں کہا کہ حملہ آور منصوبہ یا پلان بنا کر یہاں سے بھیجے گئے، نواز شریف نے نہ ہی ہی بات کی اور نہ ہی ان کا یہ مطلب تھا۔ انہوں نے کہا کہ خلائی مخلوق ہو یا زمینی ،ہم الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے، مجھے نہ کوئی کھینچ رہا ہے اور نہ ہی کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے، وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے، میں نہ ہی استعفے کا سوچ رہا ہوں اور نہ ہی استعفیٰ دوں گا، قومی سلامتی کمیٹی نے ان الفاظ کی مذمت کی جو غلط پیش کئے گئے۔

Your Thoughts and Comments