نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا

پولیس کی جانب سے ڈرا دھماکر بیان ریکارڈ کیا گیا، تحفظ فراہم کیاجائے اوتھ کمشنر کے روبرو شہزادہ جہانگیر نے بیان حلفی لکھوا دیا عدالت میں کیس کے دیگر ملزمان نے مقدمے کی نقول نامکمل ہونے کی نشاندہی بھی کی، عدالت نے مزید کارروائی 19 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلا کو مکمل دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کردی

پیر مئی 20:52

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد گواہ نے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے ڈرا دھمکا کر بیان ریکارڈ کیا گیا۔شہر قائد کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، تاہم سماعت سے قبل مقدمے نے نیا رخ اختیار کرلیا اور پولیس کی جانب سے نامزد کیے گئے گواہ نے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے اوتھ کمشنر کے روبرو بیان حلفی لکھوا دیا۔

پولیس کی جانب سے نامزد گواہ شہزادہ جہانگیر نے اپنے بیان حلفی میں عدالت سے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ 13 جنوری کو جب واقعہ پیش آیا تو ان کی اس وقت پوسٹنگ میمن گوٹھ میں تھی، واقعے کے بعد انہیں 17 فروری کو ایس پی آفس بلایا گیا، جب وہ 18 فروری کو ایس پی آفس پہنچے تو انہیں گرفتار کرکے 7 سے 8 دن بعد ڈرا دھمکا کر راو انوار کے خلاف بیان دلوایا گیا۔

(جاری ہے)

منحرف گواہ نے کہا کہ پولیس نے ان پر تشدد کرکے اپنی مرضی سے بیان ریکارڈ کروایا جبکہ ان کی جان کو اب خطرہ ہے، عدالت ان کی حفاظت کا بندوبست کرے۔منحرف گواہ کے بیان کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ کیس کی سماعت کے آغاز پر گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر کو پیش کیا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ پیشی پر جرگہ عمائیدین کے اعتراض کے باوجود سابق ایس ایس پی کو بھی مکمل پروٹوکول میں بغیر ہتھکڑی پہنائے پیش کیا گیا۔

دوران سماعت عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہونے والے گواہ شہزادہ جہانگیر کا بیان پڑھ کر سنایا گیا، اس کے ساتھ ساتھ عدالت مقدمہ کے مدعی کی جانب سے راؤ انوار کو ملیر کینٹ میں واقع ملتان لائنز میں رکھنے پر اعتراض جمع کرائے گئے جبکہ عدالت نے ملزم راؤ انور کی جانب سے دائر درخواست ضمانت اور بی کلاس کی درخواست کی نقول فراہم کیں۔بعد ازاں عدالت میں کیس کے دیگر ملزمان نے مقدمے کی نقول نامکمل ہونے کی نشاندہی بھی کی، جس پر عدالت نے مزید کارروائی 19 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلا کو مکمل دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب اس بات کا بھی امکان ہے کہ آئندہ سماعت پر نقیب اللہ کیس کے ملزمان پر فرد جرم بھی عائد کی جاسکتی ہے۔خیال رہے کہ 12 مئی کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی۔انسداد دہشت گردی عدالت میں دائر کردہ درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 13 جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن میں ہونے والے پولیس مقابلے کے دوران راؤ انوار جائے وقوع پر موجود نہیں تھے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نقیب اللہ کیس کے چالان اور مشترکہ تحقیقات ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات اور جیو فینسنگ میں تضاد ہے، لہٰذا راؤ انوار کی ضمانت منظور کی جائے۔خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو 13 جنوری کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا۔

Your Thoughts and Comments