اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت سے مجھے نئی زندگی ملی‘ ملک بھرسے عوام نے دعائوں اور محبتوں کے جو گلدستے بھیجے‘وہ میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں‘

میں اپنے ساتھ جسم میں وہ گولی زندگی بھر کیلئے لیکر جارہاہوں‘جو مجھے یہ یاد دلاتی رہے گی پاکستان کوامن کا گہواربنانے کیلئے ابھی کتنا وقت لگے گا‘ سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے سے قبل وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا ویڈیو پیغام

پیر مئی 23:19

لاہور۔14 مئی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بے پناہ شکر ادا کرتے ہیں کہ رب کائنات کی خصوصی عنایت سے مجھے نئی زندگی ملی ہے‘ وہی ہے جوزندگی اور موت کے فیصلے کرتا ہے‘ وہی ہے جو انسانوں کی تدبیروں کو ناکام کرتا ہے‘ یہ ویڈیو پیغام وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پیر کے روز سروسز ہسپتال لاہور سے ڈسچارج ہونے سے قبل جاری کیا‘ اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ میں اہل پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتاہوں ‘گلگت سے لیکر گوادر تک پورے ملک سے مائوں‘بہنوں‘بیٹیوں‘بھائیوں اور نوجوانوں نے میری طرف دعائوں اور محبتوں کے جو گلدستے بھیجے‘وہ میری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں‘میں ان کے نقش کبھی مٹا نہیں سکوں گا‘ خاص طور پرمیں اہلیان نارووال کے ان جذبات کوکبھی فراموش نہیں کرپائوں گا‘ نارووال کے گھر گھر میں جس طرح میری مائوں‘بہنوں نے اللہ کے حضور میری صحت یابی کی دعا کی وہ میرے لئے بہت بڑا قرض ہے‘ اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی رہنمائوں نے یکجہتی کے جو پیغام بھیجے ہیں ان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں‘ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف فوری طور پر میری خیریت پوچھنے کیلئے آئے اور وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری سمیت دیگرجماعتوں کے قائدین سول وسکیورٹی اداروں کے سربراہان اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن اور نمائندوں نے جس طرح ہسپتال میں آ کر میری خیریت دریافت کی‘حالانکہ ڈاکٹرز نے ہسپتال میں مجھ سے ملاقات پر پابندی عائد کر رکھی تھی‘ انہوں نے اس کا احترام کرتے ہوئے میرے اہل خانہ سے جس یکجہتی اور محبت کا اظہار کیا‘میں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘میڈیا نے اس حوالے سے میری صحت کے بارے میں قوم کو آگاہ رکھااور خاص طورپر وہ صحافی جو مستقل ہسپتال میں موجود رہے تاکہ میری صحت کے بارے میں قوم کو باخبر رکھ سکیں‘ میں ان کا بھی بے حدمشکورہوں‘ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ میں خاص طور پر سکیورٹی کے اس عملے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ تھے اور انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر حملہ کرنیوالے کو حراست میں لیا اور کسی بڑے حادثے کا سدباب کیا‘ مجھے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نارووال لے جایا گیاوہاں کے ڈاکٹرز‘نرسز اور عملے نے جس انداز سے مجھے ابتدائی طبی امداد دی ‘میں اس کیلئے بھی ان کا بے حد مشکورہوں‘ جب مجھے کہا گیا کہ میں مزید علاج کیلئے کسی بڑے ہسپتال جائوں‘ جہاں مجھے علاج معالجہ کی بہتر سہولیات دستیاب ہوں گی تو میں نے اس سلسلے میں ایک سرکاری ہسپتال کا انتخاب کیا‘ جہاں سے علاج کروا کرمجھے تجربہ ہوا کہ پبلک سیکٹر میں ہیلتھ کیئر کے اداروں میں اعتماد میں اضافہ ہوا ہے‘ سروسز ہسپتال میں بیٹیوں جیسی نرسز نے شبانہ روز ذاتی دلچسپی لیکر میری نگہداشت کی‘ ان ڈاکٹرز کو جو میرے ساتھ جاگتے رہے‘ جب میں سوتا تھا تو وہ تب بھی جاگتے تھے‘ ان کا میں بے حد مشکورہوں‘ اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ میں آج گھر جارہا ہوںاور اپنے ساتھ جسم میں وہ گولی زندگی بھر کیلئے لیکر جارہاہوں‘جو مجھے یہ یاد دلاتی رہے گی کہ ہمیں پاکستان کوامن کا گہوارہ‘یکجہتی اور ہم آہنگی کا مضبوط مرکز بنانے کیلئے ابھی کتنا وقت لگے گا‘پاکستان جسے دین اسلام کے نام پرحاصل کیا گیا‘ وہ دین جس کا نام ہی امن کے ساتھ اس ملک سے نفرت کے کانٹوں کو دور کرنے کیلئے جدوجہد کرنی ہے‘ کیونکہ کوئی ملک بھی اس وقت تک مضبوط اور خوشحال نہیں ہو سکتا جب تک وہاں پر امن‘ استحکام اور بھائی چارہ یقینی نہ بنایا جاسکے‘ انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں ہم ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں‘وہ شہید اور ان کے اہل خانہ بھی میری دعائوں میں ہیں جو دہشت گردی کا نشانہ بنے‘اس ملک کودہشت گردی سے محفوظ رکھنے کیلئے انہوں نے اپنی جوانیاں نچھاورکیں‘ شہادت کے جام نوش کئے‘ تاکہ یہ قوم امن میں زندگی بسر کرسکیں‘انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر سروسز ہسپتال لاہور کی انتظامیہ اور عملے کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتاہوں جو میرے ساتھ موجود رہے‘ بالخصوص صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے محنت کے ساتھ میرے علاج معالجہ کی نگرانی کی اور وہ تمام دوست جنہوں نے مجھے صحت یاب کرنے میں مدد کی‘ میں ان سب کا انتہائی مشکور ہوں‘ آخر میں ہم سب ملکر نعرہ لگائیں پاکستان زندہ باد۔

Your Thoughts and Comments