کیا بشارالاسد سے دوستی کرنے کی تیاریاں ہیں؟ ترک صدر نے بتا دیا

میں آج بھی بشار الاسد کے خلاف ہوں، روس اور ایران کے ساتھ تعاون شامی عوام کی خاطر ہے،ترک صدر اسلحے کی دوڑ میںمتعدد حساس پہلوئوں کو نظر انداز کر دیاگیا،امریکہ نے 5 ہزار ٹرالر اور 2 ہزار کارگو طیاروں کے ذریعے اسلحہ شام میںکیوں بھیجا،شامی علاقے پر اسرائیلی بمباری جنگ کی دعوت ہے،رجب طیب اردگان کی بی بی سی سے گفتگو

پیر مئی 20:02

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ میں آج بھی بشار الاسد کے خلاف ہوں، روس اور ایران کے ساتھ تعاون شامی عوام کی خاطر ہے، اسلحے کی دوڑ میں امریکہ نے متعدد حساس پہلووں کو نظر انداز کر دیا ہے،امریکہ نے 5 ہزار ٹرالر اور 2 ہزار کارگو طیاروں کے ذریعے اسلحہ شام میں بھیجا،یہ اسلحہ یہاں کیوں بھیجا گیا ہے،شامی علاقے پر اسرائیلی بمباری جنگ کو دعوت دے رہی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت علاقے میں امریکہ کی طرف سے اسلحے کی دوڑ جاری ہے اور یہ چیز اس بات کی عکاس ہے کہ اسلحے کی دوڑ میں امریکہ نے متعدد حساس پہلووں کو نظر انداز کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ امریکہ کی، ایران کے ساتھ طے شدہ، جوہری سمجھوتے سے دستبرداری علاقے میں پٴْر مسائل دور پیدا کرے گی۔

صدر اردگان نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پروگرام "ہارڈ ٹاک" میں بطور مہمان شرکت کی۔ایجنڈے کے موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور P5+1) امریکہ، چین، روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی( کے درمیان سال 2015 میں سمجھوتے کا طے پانا بین الاقوامی تسلسل کی ضمانت ہے۔ایک سوال کے جواب میں کہ" آیا امریکہ کا فیصلہ علاقے میں اسلحے کی دوڑ کے آغاز کا سبب بنے گا یا نہیں" صدر ایردوان نے کہا کہ "امریکہ نے 5 ہزار ٹرالر اور 2 ہزار کارگو طیاروں کے ذریعے اسلحہ شام میں بھیجا ہے۔

یہ اسلحہ یہاں کیوں آیا ہی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت علاقے میں امریکہ کی طرف سے اسلحے کی دوڑ جاری ہے اور یہ چیز اس بات کی عکاس ہے کہ اسلحے کی دوڑ میں امریکہ نے متعدد حساس پہلووں کو نظر انداز کر دیا ہے۔صدر ایردوان سے یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناو کے قابو سے نکلنے کے بارے میں اندیشے محسوس کر رہے ہیں یا نہیں۔

سوال کے جواب میں صدر ایردوان نے کہا کہ اگر اسرائیل ، شام کی زمیں پر 50 کے لگ بھگ میزائل پھینک چکا ہے تو اسے کیا کہا جا سکتا ہے۔اسے کھلے بندوں علاقے میں جنگ پر اکسانے کی کاروائی کہا جا سکتا ہے۔اس سوال کہ جواب میں کہ ترکی شام میں انتظامیہ کے تعاون کی حامل طاقتوں یعنی ایران اور روس کے ساتھ تعاون کو ترجیح دے رہا ہے ۔ صدر ایردوان نے کہا کہ میں آج بھی بشار الاسد کے خلاف ہوں اور اس کے ساتھ نہیں ہوں۔

لیکن جہاں تک ترکی کے روس اور ایران کے ساتھ مل کر اٹھائے گئے اقدامات کا تعلق ہے تو وہ شامی عوام کے امن کی طرف اٹھائے گئے اقدامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم جو بھی قدم اٹھا رہے ہیں اسی چیز کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھا رہے ہیں۔ترکی اور برطانیہ کے درمیان تعلقات پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ اس وقت ترکی اور برطانیہ کے درمیان تجارتی حجم 17 بلین ڈالر کے قریب ہے اور ہم اس میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت دفاعی صنعت میں برطانیہ اور ترکی کے درمیان تعلقات موجود ہیں اور ہم انہیں بھی فروغ دینے کے لئے کوششیں کریں گے۔

Your Thoughts and Comments