انڈونیشیا پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ ایک ہی خاندان کے افراد نے کیا ، پولیس کا دعویٰ

منگل مئی 00:08

سرابایا (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)انڈونیشیا کے شہر سرابایا میں پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو پولیس ہیڈ کوارٹر پر کیا جانے والا خود کش حملہ بھی ایک ہی خاندان کے افراد نے کیا ہے۔اس سے پہلے اسی طرز پر ایک ہی خاندان کے افراد نے اتوار کو تین گرجا گھروں پر بھی حملے کیے تھے جن کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک آٹھ سالہ بچی بچ گئی ہے۔26 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں حالیہ عرصے میں اسلامی عسکریت پسندی بڑھی ہے۔ اور سرابایا میں ہونے والے حملوں کی وجہ سے علاقے میں جہادیوں کے ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔پیر کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کیپولیس ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چیک پوائنٹ پر بم دھماکے سے قبل موٹر سائیکل پر سوار دو افراد وہاں پہنچے۔

(جاری ہے)

اتوار کو ہونے والے ان دھماکوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ماں اور اس کے دو بچوں نے ایک چرچ میں خود کو اڑایا جبکہ باپ اور تین بچوں نے دوسرے گرجا گھروں کو نشانہ بنایا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملے میں حصہ لینے والی لڑکیوں کی عمریں نو اور 12 سال تھی جبکہ لڑکے 16 اور 18 سال کے تھے۔انڈونیشیا کے صدر جوکو وڈوڈو نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے 'ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا چاہیئے۔ ریاست اس بزدلی کے عمل کو برداشت نہیں کرے گی۔'۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments