’’نیازی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتاہے‘‘

’’میں تہانوں کئی وریاں تو ں جانناںواں‘‘’’اوپر بھی ٹرین چل رہی ہے اور نیچے بھی ٹرین ‘‘ اورنج لائن تاخیر کے باوجود پھر آگئی … تکلیف میں ہیں پھر نیازی ، زرداری راستے میں کھڑے اور چھتوں پر چڑھے بچے ، خواتین ، بزرگ ، نوجوانوں کا جوش دیدنی چائے والے نوجوان اور جھروکے میں کھڑے بزرگ کا منفرد انداز میں خیر مقدم

بدھ مئی 23:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اورنج لائن میٹرو ٹرین کی آزمائشی سروس کے لئے اسلام پارک اسٹیشن پہنچے تو ٹریک کے نیچے ہزاروں نوجوانوں نے تالیاں بجاکر ان کا پر جوش خیر مقدم کیا -عوام کی ایک بہت بڑی تعداد گھروں کی چھتوں ،سڑکوں اور بازاروں میں اورنج لائن ٹرین کی ٹیسٹ رن دیکھنے کے لئے کھڑے تھی-وزیراعلی شہبازشریف ،چین کے قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن کے ہمراہ ٹرین کے اگلے حصے میں سوار ہوئے او رانہوںنے ڈرائیور او رسٹاف سے پر جوش مصافحہ کیا او رانہیں مبارکباد دی -وزیراعلی تمام راستے چین کے قونصل جنرل اور دیگر مہمانوں کو اورنج لائن ٹرین ، شالیمار باغ، گلابی باغ اور ریلوے کوارٹرز اور لاہور کی دیگر آبادیوں سے متعلق بتاتے رہی-بچے او رخواتین گھروں کی چھتوں سے اورنج لائن میٹروٹرین ٹیسٹ ڈرائیو کا نظارہ لیتے رہے -ایک بزرگ نے گھر کی بالکونی کے جھروکے سے رومال ہلا کر وزیراعلی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی - وزیراعلی نے پر جوش اندا ز میں ان کے سلام کا جواب دیا -ٹرین اسلام پارک سے روانہ ہوئی ، سلامت پورہ ،محمود بوٹی ، پاکستان منٹ ، شالیما ر باغ ، یوای ٹی اور ریلوے اسٹیشن سٹاپ سے گزرتی ہوئی لکشمی چوک سٹاپ پہنچی -راستے میں شالامار لنک روڈ، گڑھی شاہو روڈ،ایمپرس روڈ، سبز ی منڈی اور دیگر سڑکو ںپر عوام کی بہت بڑی تعداد موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سے اتر کر اشتیاق سے اورنج لائن ٹرین کو گزرتا دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے رہی-ایک سٹال پر کھڑے چائے والے نوجوان نے کپ بلند کر کے اورنج لائن کا خیر مقدم کیا-شہری مختلف مقاما ت پر ٹرین کو چلتا دیکھ کر موبائل سے ویڈیو بناتے رہی-پاکستان ریلوے ٹریک کے اوپر سے اورنج لائن ٹرین کو دیکھ کر شرکاء نے تبصرہ کیا کہ نیچے بھی ٹرین او راوپر بھی ٹرین ، حاضرین ان کی بات پر مسکرا دئیی-وزیراعلی مہمانوں کے ہمراہ لکشمی چوک پنڈال پہنچے تو ہمارا شیر ٹرین لے آیا کے نعرے بلندہوئی-وزیراعلی نے چین کے صدر اور وزیراعظم کے لئے خاص طو رپر تالیاں بجانے کے لئے کہا اور اسی طرح خواجہ احمد حسان اور اورنج لائن پراجیکٹ کی ٹیم کے نام لے لے کر تحسین کی-وزیراعلی نے تقریر کے دوران پنڈال میں موجود پر جوش کارکن کو دیکھ کر کہاکہ میں تہانوں کئی وریاں تو ں جانناںواں ، تہاڈے والدین نوں وی جانناں، تہاڈے بھراواںنوں وی جانناں واں، تے ایس لئی میری گل منوں تے بہہ جائو‘‘-شہبازشریف نے پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کی مناسبت سے آج کی تقریب کے لئے سبز رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی-شہبازشریف نے تقریر میں عمران خان نیازی کی عوام دشمن پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ شعر پڑھا’’ نیازی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتاہے …وہی ہوتاہے جو منظور خدا ہوتاہے ‘‘-انہوںنے کہاکہ تم نے عوام کی اورنج لائن ٹرین لیٹ کرائی لیکن تمہاری ٹرین چھوٹ چکی ہے -وزیراعلی نے تقریر کا اختتام پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ بادکے نعروں پر کیا -انہوںنے نظم کے انداز میں’’ اورنج لائن تاخیر کے باوجود پھر آگئی ……تکلیف میں ہے پھر نیازی …جاگیر داری اور آصف زرداری‘‘ پڑھا تو مجمع پرجوش نعروں سے گونج اٹھا۔

Your Thoughts and Comments