عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح اور ریاست کی ذمہ داری ہے،

حکومت نے گذشتہ 5 سالوں کے دوران صحت سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائیں،موجودہ حکومت نے صحت کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں،حکومت ملینڈا اینڈ گیٹس فائونڈیشن کے تعاون سے ملک سے پولیو کے خاتمہ کے قریب ہے اور اب تپ دق پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی تزئین و آرائش کے افتتاحی تقریب سے خطاب

جمعرات مئی 00:06

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عوام کو صحت کی معیاری اور ارزاں خدمات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے گذشتہ 5 سالوں کے دوران صحت سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائیں، صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،موجودہ حکومت نے صحت کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں۔

وہ بدھ کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ)کی تزئین و آرائش کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر قومی صحت خدمات سائرہ افضل تارڑ، سیکرٹری صحت اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کی خدمت کے ایجنڈے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں صحت پالیسی کا یکساں نفاذ بنیادی اہمیت کا حامل ہے،18ویں ترمیم کے بعدصحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے تاہم وفاقی حکومت عوام کو صحت کی بہتر خدمات کی فراہمی کیلئے اس ضمن میں باہمی رابطے اور پالیسی سازی کے حوالے سے صوبوں کی مکمل معاونت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات جاری رہیں گے کیونکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کا کام ہے، موجودہ حکومت نے صحت کی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے سنجیدہ اقداما ت اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے محمد نواز شریف کی قیادت میں ملک بھر میں صحت کی معیاری سہولیات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پالیسیاں جاری رہیں تو پائیدار ترقیاتی اہداف 2030ء کے تحت معیاری صحت فراہم کرنے کے عالمی معاہدہ پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہیلتھ کیئر پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے ملک بھر کے غریب سے غریب ترین افراد کو سو فیصد صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دل کی بیماریوں صحت کے سنجیدہ مسائل کے طور پر لیا ہے اور سٹنٹس کیلئے 10 ارب روپے فراہم کئے ہیں، اگر ضروری پڑی تو حکومت اس پروگرام کیلئے اضافی رقم بھی فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ این آئی ایچ میں بیماریوں کے کنٹرول کے جدید مرکز کھولنے، ڈیٹا بیس کے قیام اور مختلف ویکسین کی پروڈکشن سے بیماریوں کے متاثرین کو چیک کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملینڈا اینڈ گیٹس فائونڈیشن کے تعاون سے ملک سے پولیو کے خاتمہ کے قریب ہے اور اب تپ دق پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر قومی صحت و خدمات سائرہ افضل تارڑ اور سیکرٹری صحت کی نگرانی میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی تزئن و آرائش مکمل کرنے پرمبارکباد پیش کی اور اس اقدام کو سراہا۔

وزیراعظم نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ( این آئی ایچ) کی تزئین و آرائش کا افتتاح کیا اور انسٹی ٹیوٹ کے مختلف شعبوں کا دوروں کیا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں صحت کا شعبہ ہمارے منشور کے عین مطابق اولین ترجیحاتی ایجنڈا رہا اور 2016-25ء کے نیشنل ہیلتھ وژن کے سماجی شعبہ میں طبی نگہداشت کے ایجنڈا کو بھی ترجیح دی گئی ہے جو کہ ہماری وزارت نے بنایا، وژن مستعد، فعال، قابل رسائی اور تمام آبادی کو سستی ہیلتھ سروسز کی فراہمی کے ذریعے یونیورسل ہیلتھ کوریج میں رہنمائی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این آئی ایچ قومی اثاثہ ہے اور اس میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ ہم پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور عوام کی خدمت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments