ایران طالبان کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان سپلائی کر رہا ہے، افغانستان کا الزام

ایرانی اسلحہ طالبان سے برآمد،ایران افغانستان میں افراتفری کا خواہشمند ہے،پولیس چیف

جمعرات مئی 18:25

کابل(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات مئی ء)افغاناستان نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کو ایران کی جانب سے اسلحہ اور جنگی سازو سامان سپلائی کیا جا رہا ہے،ایران افغان صوبے فراہ میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم تحریک طالبان کے جنگجوں کو اسلحہ اور جنگی سازو سامان فراہم کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق افغان پولیس حکام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنوب مغربی صوبے فراہ میں طالبان کے خلاف کی گئی تازہ فوجی کارروائی کے دوران طالبان کے قبضے سے ایرانی اسلحہ اور جنگی سازو سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ فراہ صوبے کے پولیس چیف فضل احمد شیرزاد نے کہا کہ ایران طالبان تحریک کے جنگجوں کو اسلحہ اور فنڈز مہیا کررہا ہے تاکہ وہ فراہ ریاست اور ملک کے دوسرے علاقوں میں افراتفری پھیلا سکیں۔

(جاری ہے)

شیرزاد کاکہنا تھاکہ فراہ صوبے میں طالبان کے خلاف کارروائی کیدوران جنگجو اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ طالبان کے قبضے سے ملنے والے ہتھیار ایرانی ساختہ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران طالبان کی مسلح مدد کررہا ہے۔پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ایران سرحدی صوبے فراہ میں انارکی پھیلانے کے لیے طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں کی مدد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ فراہ صوبہ افغانستان کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس کی سرحدیں شمال میں صوبہ ہرات، نیمروز، جنوب میں ہلمند اور مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔ ان صوبوں کی اکثریت پشتون آبادی پر مشتمل ہے۔ فراہ صوبے میں طالبان کی بڑھتی سرگرمیوں کے باعث یہاں اکثر پولیس اور جنگجوں کے درمیان لڑائی کی اطلاعات آتی ہیں۔گذشدتہ منگل کو طالبان نے فراہ صوبے پر ایک بڑا حملہ کر کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا تاہم بعد ازاں پولیس اور دیگر فورسز نے بھرپور کارروائی کر کے طالبان کو بھگا دیا۔

آپریشن میں کم سے کم 300 جنگجو ہلاک اور سیکڑوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب افغانستان کی طرف سے ایران پر طالبان جنگجوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ فراہ صوبے میں حکام نے 28 دسمبر 2016 کو ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ وہاں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی لڑائی میں شامل ہیں۔فرانسیسی ریڈیو نے ایک مقامی خاتون عہدیدار جمیلہ امینی کا ایک بیان نقل کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ فراہ صوبے میں لڑائی کے دوران 25 طالبان جنگجو مارے گئے۔ تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار تھے۔

Your Thoughts and Comments