چکوال میں مسلم لیگ ن مارے کی میدان یا تحریک انصاف کا پلڑا بھاری رہے گا ، صحافیوں میں شرطیں لگ گئیں

میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ اب چکوال کے لوگ مسلم لیگ ن کو ووٹ نہیں دیں گے،ایاز میر نے سلمان غنی کو چیلنج کر دیا

جمعہ مئی 22:34

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء):چکوال میں مسلم لیگ ن مارے کی میدان یا تحریک انصاف کا پلڑا بھاری رہے گا ، صحافیوں میں شرطیں لگ گئیں۔یاز میر نے سلمان غنی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ میں چکوال کا رہنے والا ہوں، میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ اب چکوال کے لوگ مسلم لیگ ن کو ووٹ نہیں دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق 2018 پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔

جیسے جیسے انتخابات قریب سے قریب تر آ رہے ہیں سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔شاس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جلسوں کی صورت میں سیاسی پاور شو کے سلسلے بھی جاری و ساری ہیں اور ان جلسوں میں بڑے بڑے سیاسی نام اپنی پارٹیوں کو خیر باد کہہ کر نئی جماعتوں کے ساتھ اپنی سیاسی وفاداریوں کا اعلان کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

سیاسی کارکنان اور رہنما اپنے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت سیاسی وفاداریاں تبدیل کررہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں نے بھی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھی انتخابات کے حوالے سے مختلف پیشگوئیاں شروع کر دی ہیں۔مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھے جانے والے چکوال میں انتخابات کا میدان کس کے نام رہے گا اس حوالے سے نجی چینل پر جاری مباحثے میں صورتحال اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب معروف تجزیہ نگار ایاز میر نے مسلم لیگ ن کے حامی صحافی سلمان غنی سے لائیو پروگرام میں شرط لگا لی ۔

سلمان غنی کا کہنا تھا کہ چکوال مسلم لیگ ن کا مضبوط گڑھ ہے ،مسلم لیگ ن کی جو پوزیشن چکوال میں ہو گی وہی پورے پاکستان میں ہو گی جس پر ایاز میر کا کہنا تھا کہ سلمان غنی صاحب ایسے نہ کہیں کیونکہ اگر آپکی بات درست نکلی تو یہ مسلم لیگ ن کے لیے اچھا نہ ہو گا کیونکہ میں چکوال کا رہنے والا ہوں ، چکوال فوجی شہدا کا گڑھ ہے ،میں آپ سے شرط لگاتا ہوں کہ اس مرتبہ مسلم لیگ ن کو چکوال سے کوئی ووٹ نہیں ملنے والا،اس کے پیچھے موجود وجہ نواز شریف کا بیانیہ ہو گا۔

Your Thoughts and Comments