اسرائیلی جیل انتظامیہ نے تربوز پر 18برس سے عائد پابندی اٹھا لی

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو روزہ افطاری کے لئے تربوز کی فراہمی جاری کر دی گئی،جیل حکام

جمعہ مئی 21:41

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ مئی ء)اسرائیلی جیل انتظامیہ نے تربوز پر 18برس سے عائد پابندی اٹھا لی، اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو روزہ افطاری کے لئے تربوز کی فراہمی جاری کر دی گئی،غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی اسیر اس تربوز کی تصویر کو باہر بھیجنے میں کامیاب ہو گیا جو اس نے 17 برس کے طویل عرصے کے بعد دیکھا تھا۔

اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید اسیر ابو محمود نے تصویر کے ساتھ منسلک اپنے تبصرے میں بتایا کہ "جیل انتظامیہ نے تربوز پر تقریبا 18 برس سے عائد پابندی کو اٹھا لیا۔ انتظامیہ نے ہر چھ قیدیوں میں ایک تربوز تقسیم کیا اور ہم اب اذانِ مغرب کا انتظار کر رہے ہیں"۔اسرائیلی جیلوں میں 13 برس گزارنے والے ایک قیدی ابراہیم سمحان نے بتایا کہ قابض حکام نے 2000 میں بیت المقدس کی انتفاضہ تحریک کے وقت سے قیدیوں کے لیے تربوز پر پابندی عائد کر دی تھی۔

(جاری ہے)

انہیں اندیشہ تھا کہ تربوز کے ذریعے بعض چیزوں کو خفیہ طور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ سمحان کے مطابق ایک قیدی کے لیے یہ اقدام اذیت رسانی اور اسے محرومی کا احساس دلانے کے مترادف تھا۔قابض حکام قیدیوں کے لیے بعض سادی سی اشیا مثلا آئس کریم، خوشبو، تسبیح کے رنگین دانے، چمچے اور شیشے کے گلاس وغیرہ بھی ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں قیدیوں کی جانب سے جیل میں اپنی روز مرہ کی زندگی بہتر بنانے کے واسطے ہڑتالوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ سونے کے لیے تکیے کا حصول قیدی کے لیے انتہائی خوش بختی شمار کی جاتی ہے۔ اسی طرح یکم رمضان کو اسرائیلی حکام کی جانب سے جیلوں میں تربوز کے داخلے کی اجازت دینا بھی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments